سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(431) تنسیخ نکاح کا یک طرفہ فیصلہ

  • 11639
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-13
  • مشاہدات : 421

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اقبال نگر سے محمد سلیم سوال کرتے ہیں۔ کہ ایک عورت نے فیملی کورٹ میں اپنے خاوند کے خلاف تنسیخ نکاح کادعویٰ دائر کیا اس کے بعد عدالت نے خاوندکو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا اخبارات میں اس کے متعلق اشتہار بھی دیا۔ لیکن خاوند حاضر نہ ہوا آخر کارعدالت نے مورخہء 12 جولائی 2002 کو طلاق کے احکامات جاری کردیئے یعنی عورت کے حق میں تنسیخ نکاح کا یک طرفہ فیصلہ کردیااب عورت نکاح ثانی کے لئے کتنی عدت گزارنے کی پابند ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اقبال نگر سے محمد سلیم سوال کرتے ہیں۔ کہ ایک عورت نے فیملی کورٹ میں اپنے خاوند کے خلاف تنسیخ نکاح کادعویٰ دائر کیا اس کے بعد عدالت نے خاوندکو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا اخبارات میں اس کے متعلق اشتہار بھی دیا۔ لیکن خاوند حاضر نہ ہوا آخر کارعدالت نے مورخہء 12 جولائی 2002 کو طلاق کے احکامات جاری کردیئے یعنی عورت کے حق میں تنسیخ نکاح کا یک طرفہ فیصلہ کردیااب عورت نکاح ثانی کے لئے کتنی عدت گزارنے کی پابند ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت میں عورت کے مطالبہ تنسیخ نکاح پر عدالت کا یک  طرفہ فیصلہ طلاق خلع کہلاتاہے۔ اور خلع سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔ خلع سے چھٹکارا حاصل کرنا بیوی کا حق ہے۔ بشرط یہ ہے کہ زوجین میں اس قدر شدید منافرت اور ناچاقی پیدا ہوچکی ہو کہ آئندہ اکھٹے رہنے میں وہ احکام الٰہی کی پابندی نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ بلاوجہ خلع لینے سے بہت سخت وعید احادیث میں آتی ہے چنانچہ حدیث میں ہے''کہ جس عورت نے بھی اپنے شوہر سے بغیر کسی معقول عذر اور مجبوری کے خلع حاصل کیا اس پر جنت کی  خوشبو تک حرام ہے۔''(جامع الترمذی کتاب الطلاق)

چونکہ صورت مسئولہ میں عدالت نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے معاشرتی حالات کے پیش نظرعورت کے حق تنسیخ نکاح کافیصلہ کردیا  ہے۔اب نکاح ثانی کے لیے اسے ایک حیض آنے تک انتطار کرنا ہوگا۔ تاکہ رحم کے لئے خالی ہونے کا یقین ہوجائے اس کے بعد  وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔چنانچہ امام نسائی  رحمۃ اللہ علیہ   نے اپنی کتاب میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے کہ''خلع یافتہ عورت کی عدت''اس کے  تحت وہ ایک حدیث میں لائے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خلع یافتہ عورت سے  فرمایا کہ وہ ایک حیض آنے تک انتظار کرے۔

(نسائی کتاب الطلاق عدت المطلقہ)

اگرچہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اسےطلاق سے تعبیر کیا ہے لیکن خلع فسخ ہے۔طلاق نہیں حافظ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ   نے طلاق اور خلع کے درمیان فرق کرتے ہوئے لکھا ہے۔'' کہ طلاق میں مرد کو رجوع کرنے کا حق ہوتاہے۔جبکہ خلع میں ایسا نہیں ہوتا دوسرا یہ کہ طلاق کی عدت  تین حیض ہے۔جبکہ خلع کی عدت ایک حیض ہے۔جیسا کہ سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم او ر اقوال صحابہ  رضوان ا للہ عنہم اجمعین  سے ثابت ہے۔''(زاد المعاد فی ہدی خیر العباد)

علامہ ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   نے اس مسئلے کی خوب وضاحت کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق  حضرت عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت ابن عباس   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور  حضرت ابن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی فیصلہ ہے کہ خلع یافتہ عورت ایک حیض آنے تک انتظار کرے۔(فتاویٰ :32/323)

ان تصریحات کی روشنی میں عورت کے لئے ضروری ہے۔کہ خلع لینے کی صورت میں ایک حیض آجانے کے بعد وہ نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہے۔(واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص388

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ