سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) فال معلوم کرنا

  • 11348
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-27
  • مشاہدات : 997

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہاتھ کی لکیروں سے فال معلوم کرنا جائز ہے؟بعض لوگ اس کے قائل ہیں اور ہاتھ کی لکیر دیکھ کر کہتے ہیں  تم دو شادیاں کرو گے‘تمہیں اتنا مال ہاتھ آئے گا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ولا حول ولا قوة الا باللہ۔

حدیث صحیح میں ثابت ہے کہ رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

«لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الفَأْلُ» قَالُوا: وَمَا الفَأْلُ؟ قَالَ: «الكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُم»

(بد شگونی نہیں ہے اور اچھا ان میں فال  ہے‘‘۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: فال سے کیا مراد ہے؟فرمایا:’’اچھا کلمہ جو تمہارا کوئی سنے)۔(متفق علیہ) (مشکوۃ:2/391)

اور حدیث میں ہے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فال لیتے تھے اور بدشگونی نہیں کرتے تھے۔اور آپ کو اچھا نام پسند تھا۔ (مشکوۃ:2/392)

اور ترمذی : (2/291) میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  جب کسی کام کے لیے نکلتے تو آپ کو ’’یا راشد‘‘ اور یا نجیح‘‘ سننا لگتا تھا۔(مشکوۃ:2/392) ۔

تو نام سے فال پکڑنا اچھی چیز ہے اور اس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تابعداری ہے اور طیرہ(بدشگونی) حرام ہے اور ہاتھ کی لکیروں سے فال نکالنے کو میں بدعت ہی سمجھتا ہوں جسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے کبھی کبھی عوام کا اس شخص  کے  بارے میں یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ غیب جانتا ہے۔اور جب کوئی عورت مردوں کا ہاتھ دیکھے یا مرد عورتوں کے ہاتھ دیکھیں اور آپس ہنسی مذاق کریں جیسے کہ مشاہدہ  ہے یہ اور بھی بری بات ہے‘ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سوال میں مذکورہ فال بدعت ہے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص94

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ