سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(19) مرزا قادیانی کو نبی ماننا

  • 11143
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-16
  • مشاہدات : 1081

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لاہور سے سرفراز احمد بھٹی خر ید اری نمبر1205لکھتے ہیں کہ ایک شخص مرزا غلام احمد قا د یا نی کو نبی مانتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر اسے یقین ہو جا ئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مو ت نہیں آئی اور نہ ہی وہ سرینگر میں مد فو ن ہیں تو وہ مرزا قادیانی کی نبو ت سے تا ئب ہو جا ئے گا ،آپ سے حیا ت مسیح کے دلا ئل درکا ر ہیں نیز جو اب دیتے وقت سورۃ النسا ء کی آیت نمبر159۔158۔157کو ضرور مد نظر رکھیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حیا ت مسیح اور نزو ل مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ہما رے ہا ں بنیا دی عقا ئد میں سے ہے جس کی بنیا د قرآنی آیا ت اور متعدد احا دیث ہیں جو معنو ی طو ر پر حد تو اتر کو پہنچتی ہیں ۔ ہمارا کا م اس عقیدہ پر دلا ئل مہیا کرنا ہے انہیں قا بل یقین بنا کر کسی کے دل میں اتا ر نا یہ اللہ تعا لیٰ کا کا م ہے، وا ضح رہے کہ حیا ت عیسیٰ علیہ السلام اور نزول عیسیٰ علیہ السلام  کے عقیدہ پر امت کا اجما ع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا : کہ اللہ تعا لیٰ میر ی امت کو گمرا ہی پر کبھی جمع نہیں کر ے گا ۔ (مستدرک :1/116)

اللہ تعا لیٰ نے رفع عیسیٰ  اور نزول عیسیٰ علیہ السلام  کو قرآن کریم میں با یں الفا ظ  بیا ن کیا ہے :’’ اور یہو د یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مر یم کو قتل کر ڈا لا ہے ،حالانکہ انہو ں نے اسے نہ قتل کیا اور نہ سو لی چڑھا یا بلکہ یہ معا ملہ ان کے لئے مشتبہ ہو گیا اور یقیناً جن لو گو ں نے اس معا ملہ میں اختلا ف کیا وہ خود بھی شک میں مبتلا ہیں انہیں حقیقت کا کچھ علم نہیں ہے وہ محض ظن کی اتبا ع کر تے ہیں اور یقیناً وہ انہیں قتل نہیں کر سکے تھے بلکہ اللہ تعا لیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زور آور اور حکمت والا ہے اور تمام اہل کتا ب ابن مر یم کی مو ت سے پہلے ضرور اس پرایمان لا ئیں گے اور قیامت کے دن وہ (ابن مریم ) ان کے خلا ف گوااہی دیں گے۔‘‘ (4/النساء 157۔158۔159

ان آیات میں صرا حت ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کو اپنی طر ف اٹھا لیا ہے اور قیا مت کے نز دیک جب آپ نز و ل فر ما ئیں گے تو آپ کی شان و شو کت کو دیکھ کر یہو د کو بھی اعترا ف کر نا پڑے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول تھے اور انہو ں نے ولد الحرا م ہو نے کا جو الزا م لگا یا تھا وہ غلط تھا، نیز ان کا یہ گما ن کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام  کو ما ر ڈا لا ہے غلط ثابت ہو جا ئے گا ۔ حیا ت عیسیٰ علیہ السلام اور نز و ل عیسی  علیہ السلام کا عقیدہ متعدد احا دیث سے بھی ثا بت ہے ۔ چنا نچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا : اس ذا ت کی قسم ! جس کے ہا تھ میں میر ی جا ن ہے عنقر یب تم میں ابن مر یم عا دل حکمران کی حیثیت سے نا ز ل ہو ں گے، وہ صلیب تو ڑ ڈا لیں گے ، خنذیر  کو ہلا ک کر دیں گے،  جز یہ اٹھا دیں گے، اس زمانہ میں ما ل کی اتنی فر ادانی ہو گی کہ اسے کو ئی  بھی قبو ل نہ کر ے گا اور ایک سجدہ ان کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو گا اگر چا ہو تو قرآن کی آیات پڑھ لو ’’تمام اہل کتا ب ابن مر یم کی مو ت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لا ئیں گے۔‘‘ (صحیح بخا ر ی :الا نبیا ء 3448)

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کو بیا ن کر نے وا لے تقریباً پندرہ تا بعین ہیں ، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علا وہ حضرت جا بر بن عبد اللہ ، حضرت نوا س بن سمعا ن ، حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص ، حضرت حذیفہ بن اسید ،  حضرت عا ئشہ صدیقہ حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت مجمع بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن مغفل ، حضرت وا ثلہ بن اسقع ، حضرت ابو امامہ ، حضرت عثما ن ، ابن ابی العا ص اور حضرت ثو با ن رضی اللہ عنہم سے بھی یہ حدیث نزو ل عیسیٰ علیہ السلام  مرو ی ہے، اختصا ر کے پیش نظر ان کے حو الہ جا ت ذکر نہیں کئے گئے ۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:56

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ