سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(739) دنیا اور آخرت کی شراب میں فرق

  • 11120
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-14
  • مشاہدات : 668

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم میں سےہر شخص یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ دنیا کی شراب حرام ہے ، یہ نشہ دیتی ہے اور عقل میں فتور پیدا کرتی ہے ، لہذا اس کاپینا شیطانی کام ہے نیز یہ ام الخبائث ہے ۔ میرا سوال یہ ہےکہ شراب دنیا میں حرام اور آخرت میں جلال کیوں ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آخرت والی شراب پاکیزہ ہوگی ، اس میں کوئی نشہ آور یا نقصان دہ چیز نہیں ہوگی ۔ جہاں تک دنیا کی شراب کا تعلق ہے تو اس میں نقصان دہی ، نشہ آوری اور تکلیف پائی جاتی ہے ۔ اس کامعنی یہ ہے کہ آخرت والی شراب پینے والے کا نہ تو سر چکرائے گا نہ اسےکمزوری لاحق ہوگی ، نہ اس میں عقل یابدن کونقصان دینے والی کوئی چیز ہے ۔ لیکن دنیا کی شراب عقل و بدن سب کونقصان دیتی ہے ۔ چنانچہ وہ تمام نقصانات جو دنیا کی شراب میں پائے جاتےہیں آخرت کی شراب ان سب سے خالی ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص560

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ