سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(408) نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا بہترین طریقہ

  • 10773
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-31
  • مشاہدات : 2265

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک سائل نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  کے مراتب  کے بارے میں پوچھا ہے اور یہ  کہ بعض  لوگوں کے بقول  بسا اوقات اس کا نتیجہ  زیادہ  بڑی  خرابی  کی صورت  میں ظاہر ہوتا ہے  ۔کیا انسان  قہوہ  خانوں اور ہوٹلوں  وغیرہ میں بھی  دعوت الی اللہ کا کام   کرسکتا ہے۔ ؟ امر بالمعروف  اور نہی عن المنکر  کا بہترین طریقہ  کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب  اور اپنے رسول ﷺ  کی سنت  میں امر بالمعروف  اور  نہی عن المنکر کا  حکم واضح فرمادیا ہے'ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿كُنتُم خَيرَ‌ أُمَّةٍ أُخرِ‌جَت لِلنّاسِ تَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ...﴿١١٠﴾... سورةآل عمران

’’(مومنو!) جتنی امتیں لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان میں سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے  کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع  کرتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

اور فرمایا :

﴿وَالمُؤمِنونَ وَالمُؤمِنـٰتُ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ يَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ وَيُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكو‌ٰةَ وَيُطيعونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ ۚ أُولـٰئِكَ سَيَر‌حَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٧١﴾... سورةالتوية

’’اور مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے  کے دوست  ہیں کہ اچھے کام  کرنے کو کہتے ہیں اور بری  باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے  اور زکوۃ دیتے  اور اللہ  اور رسول  کی اطاعت کرتے  ہیں ،یہی لوگ ہیں جن پر  اللہ کی رحم کرے گا۔بے شک  اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘

اور نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

’’جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ غالب  کوب حکمت والا ہے۔‘‘

اور نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

(( من  راي منكم منكراً فليغريه  بيده ّفان لم يستطيع  فبلسانه ّ‘ فان لم   يستطيع  فبقلبه  وذلك  اضعف  الايمان )) –(صحيح  مسلم الايمان  ‘باب بيان كون النهي  عن المنكر  من الايمان____ الخ : ح‘  ٤٩)

’’تم میں سے جو شخص  کوئی برائی دیکھے  تو اسے مٹا دے  'اگر اس کی استطاعت  نہ ہو  تو زبان سے سمجھا دے اور  اگر اس کی  بھی استطاعت نہ ہو تو دل  سے برا جانے  اور یہ ایمان کا کمزور ترین  درجہ ہے۔‘‘

اس مضمون  کی اور  بھی بہت  سی آیات واحادیث  ہیں اور واجب یہ ہے کہ اس سلسلہ میں نرمی اور اچھے  اسلوب  کو اختیار کیا جائے جیسا کہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ادعُ إِلىٰ سَبيلِ رَ‌بِّكَ بِالحِكمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ ۖ وَجـٰدِلهُم بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ ۚ...﴿١٢٥﴾... سورةالنحل

’’(اے پیغمبر  !) لوگوں کو دانش  اور نیک  نصیحت  سے اپنے  پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت  ہی اچھے  طریق سے ان کا مناظرہ کرو۔‘‘

نیکی کا حکم دینے  اور برائی  سے منع  کرنے والے  کے لیے واجب ہے کہ  وہ یہکام  علی وجہ  البصیرت (دلیل کی  بنیاد پر) سر انجام دے  جیساکہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل هـٰذِهِ سَبيلى أَدعوا إِلَى اللَّهِ ۚ عَلىٰ بَصيرَ‌ةٍ أَنا۠ وَمَنِ اتَّبَعَنى ۖ وَسُبحـٰنَ اللَّهِ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِ‌كينَ ﴿١٠٨﴾... سورة يوسف

’’(اے پیغمبر!)  کہہ دیجیے  میرا راستہ  تو یہ ہے ' میں اللہ کی طرف  بلاتا ہوں (ازروئے ویقین وبرہان ) سمجھ بوجھ  کر میں بھی (لوگوں کو اللہ کی طرف  بلاتا ہوں) اور میرے  پیرو بھی  اور اللہ پاک ہے  اور میں شرک کرنے  والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘

امر بالمعروف  اور نہی عن المنکر  کا کام  کرنے والے  کو چاہیےکہ  وہ صبر  سے کام لے 'اللہ تعالیٰ سے ثواب  کی امید  رکھے 'اللہ  کے لیے اخلاص کے ساتھ  یہ کام کرے 'ریا کاری ' شہر ت  اور ان تمام مقاصد  سے بچے  اور ان تمام مقاصد سے بچے  جو اخلاص کے مناگی ہیں جیسا کہ  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَمَن أَحسَنُ قَولًا مِمَّن دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صـٰلِحًا وَقالَ إِنَّنى مِنَ المُسلِمينَ ﴿٣٣﴾... سورة فصلت

’’اور اس شخص  سے بات  کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو اللہ  کی طرف  بلائے  اور عمل نیک  کرے اور کہے  کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ حُنَفاءَ...﴿٥﴾... سورةالبينة

’’اور ان کو  حکم تو  یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ  اللہ کی عبادت  کریں۔(بالکل یک  سو ہوکر )‘‘

اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ لقمان  حکیم  نے اپنے  بیٹے کو یہ وصیت  کی تھی :

﴿يـٰبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ وَأمُر‌ بِالمَعر‌وفِ وَانهَ عَنِ المُنكَرِ‌ وَاصبِر‌ عَلىٰ ما أَصابَكَ ۖ إِنَّ ذ‌ٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ‌ ﴿١٧﴾... سورةلقمان

’’پیارے بیٹے !نماز قائم کرو اور (لوگوں کو ) نیکی کا حکم دے ' بدی  سے منع  کر  اور جو مصیبت  بھی تجھ  پر پڑے اس پر صبر کرنا ۔بے شک  یہ بڑی  ہمت کے کاموں  میں سے ہے۔‘‘

ہم آپ کو اور دوسروں کو بھی نصیحت  کرتے ہیں کہ امر بالمعروف  اور نہی عن المنکر  کے کام میں ان لوگوں کی بات  نہ  مانو جو پسپائی اختیار کرنے  والے اور  بری بری  خبریں اڑانے  والے ہوں بشرطیکہ آپ خود بھی  صبر  نرمی  اور علم  کے زیور  سے  آراستہ ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق بخشے  اور  صبر  اخلاص اور بصیرت  عطا فرمائے ۔

داعی الی اللہ اور نیکی کا حکم  دینے  والے  اور برائی  سے منع  کرنے والے کے لیے  شریعت  یہ ہے کہ وہ ان مقامات پر بھی جائے  جہاں برائی کا ارتکاب  کیا جارہاہو تاکہ ان لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرسکے اور اس اعتبار سے قہوہ  خانوں بازاروں  اور برائی کی دیگر جگہوں  میں کوئی فرق نہیں ہے

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص315

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ