سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(407) برائی کو دل سے برا جاننے کی کیفیت

  • 10772
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-31
  • مشاہدات : 839

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

برائی کو مٹادینے والی حدیث سےکیا مقصود ہے کہ جب  تک برائی کا خاتمہ نہیں ہوتا ہم اس جگہ  کو ترک  کردیں جہاں وہ برائی  موجود  ہو یا وہاں موجود  تو رہیں مگر اسے ناپسند کریں اور اپنے دلوں  میں برا جانتے رہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

برائی کے انکار کے حوالہ سے  مسلمانوں کے کئی درجے ہیں۔ کچھ  تو وہ ہیں جن کے لیے برائی کو ہاتھ  سے مٹانا واجب ہے'مثلاً حکمران  اور ان کے نائب  جن کو یہ صلاحیت حاصل ہوتی ہے'یا مثلاً والد  کا اپنی  اولاد  سے  'آقا کا غلام سے اور شوہر کا اپنی بیوی سے معاملہ جب  کی برائی کا مرتکب  اس کے بغیر باز ہی نہ آتا ہو اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ جن کے لیے واجب ہے کہ برائی  کی تردید  کے لیے  نصیحت  وارشاد  'ممانعت  اور احسن  انداز میں  دعوت  کے طریق کار کو اختیار کریں اور ہاتھ اور قوت  کو استعمال نہ کریں تاکہ  فتنہ  وفساد  اورانار  کی نہ پھیلے اور کچھ لوگ  وہ ہیں جن کے لیے  یہ واجب ہے  کہ وہ  برائی  کو صرف  دل  سے  برا جانیں کیونکہ  انہیں اثر  ورسوخ حاصل  ہوتا ہے  نہ وہ زبان  ہی سے سمجھا سکتے ہیں۔ یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

(( من  راي منكم منكراً فليغريه  بيده ّفان لم يستطيع  فبلسانه ّ‘ فان لم   يستطيع  فبقلبه  وذلك  اضعف  الايمان )) –(صحيح  مسلم الايمان  ‘باب بيان كون النهي  عن المنكر  من الايمان____ الخ : ح‘  ٤٩)

’’ تم میں سے جو شخص  کوئی برائی دیکھے  تو اسے مٹا دے  'اگر اس کی استطاعت  نہ ہو  تو زبان سے سمجھا دے اور  اگر اس کی  بھی استطاعت نہ ہو تو دل  سے برا جانے  اور یہ ایمان کا کمزور ترین  درجہ ہے۔‘‘

اور اگر اس معاشرے میں جس میں وہ برائی  پھیلی  ہوئی ہو'موجود  رہنے  کی صورت میں اس کے فتنہ  میں مبتلا ہوجانے کا بھی  کوئی خدشہ  نہ ہو تو   وہپ اسی معاشرے میں موجود رہے  اور حسب استطاعت  برائی  کی تردید  کرتا رہے  ' بصورت  دیگر اپنے  دین  کو بچانے   کے لیے ان لوگوں کو چھوڑ دے ۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص314

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ