سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(406) برائی سے خاموشی

  • 10771
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-31
  • مشاہدات : 687

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھے یہ پیشکش کی گئی ہے میں جمعہ کا خطبہ  دوں  لیکن شرط یہ ہے کہ سود' پردہ اظہار  زیب وزینت  اور بے  پردگی  کو موضوع سخن  نہ بناؤں تو کیا میں اس پیشکش کو قبول کرلوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر یہ برائیاں اس معاشرہ  میں پھیلی  ہوئی ہیں ' جس  میں آپ  رہ رہے ہیں توپھر  ان سے خاموش رہنے کی شرط کو قبول نہ کرو کیونکہ ان برائیوں سے خاموشی  کے یہ معنی ہوں گے  کہ آپ  ان کو صحیح  سمجھتے ہیں جب کہ واجب یہ ہے کہ برائی کی تردید کی جائے اور پھر یہ برائیاں تو ایسی ہیں کہ شریعت نے انہیں حرام قراردیا ہے۔اگر کوئی حکومت انہیں صحیح سمجھے اوران کو جائز قرار دے تو پھر ان افراد  کے لیے  ان برائیوں سے خاموشی  جائزنہیں جو یہ جانتے ہوں کہ یہ برائیاں ہیں ۔ان کے لیے لازم ہے کہ ان کی تردید کریں 'خطیب  کو جب بھی موقع ملے اسے ان کی تردید کرنی چاہیے  'ان کی خرابی  کوواضح  کرنا چاہیے اوراس سلسلہ میں درج ذیل آیات کو پیش کرنا چاہیے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا۟ ۚ...﴿٢٧٥﴾... سورةالبقرة

’’اللہ نے سودے کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔‘‘

﴿وَلا تَبَرَّ‌جنَ تَبَرُّ‌جَ الجـٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ...﴿٣٣﴾... سورةالاحزاب

’’اور جس طرح (پہلے) جاہلیت(کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی  تھیں'اس طرح زینت  نہ دکھاؤ۔‘‘

اور اس طرح کی اور  بھی بہت  سی آیات  ہیں۔کوئی شخص بھی کتاب وسنت  کے ان دلائل  کو رد نہیں کرسکتا جن  کی دلالت واضح  ہو۔اگر بازاروں میں اور اس معاشرے میں جس میں آپ رہ  رہے ہوں" یہ  چیزیں موجود نہ ہوں تو پھر لوگوں میں ان کے ذکر  کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص313

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ