سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(401) سلف عصر حاضر کی کتابوں کا مطالعہ

  • 10766
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-31
  • مشاہدات : 621

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس شخص کےبارے  میں آپ کی کیا رائے ہے  جو ہم عصر مبلغین کی کتابوں سے نفرت کرتا اور سلف کی کتابوں کےمطالعہ  اور ان  سے پروگرام اخذ  کرنے  پر ہی اکتفا کرتا ہے؟ کتب سلف اور ہم عصر مبلغین ومفکرین کی کتب  کے بارے میں صحیح نقطہء نظر کیا ہونا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری رائے یہ ہے کہ ہر چیز  سے بڑھ  کر یہ بات ہے کہ دعوت  کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے اخذ کیا جائے بلاشک وشبہ ہم سب  کی یہی رائے ہونی چاہیے۔ پھر اس کے بعد اس کا درجہ  ہے جو خلفائے راشدین ' صحابہ کرام اور اسلام کے آئمہ سلف سے منقول ہو،

متاخرین اور معاصرین جن امور کے بارے میں  گفتگو کرتے ہیں ' تو یہ وہ امور ہیں جو انہی کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور یہی لوگ ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں لہذا اگر اس پہلو سے انسان ان کی کتابوں سےاستفادہ  کرے ۔ تو وہ اپنے  وافر حصہ کو حاصل کرلیتا ہے' لیکن  ہم سب یہ جانتے ہیں کہ معاصرین نے بھی سابقہ لوگوں سے  علم حاصل کیا ہے۔ تو ہم بھی اسی  جگہ سے کیوں نہ لیں'جہاں سے انہوں نے حاصل کیا ہے البتہ جدید امور کے بارے میں یہ زیادہ بہتر جانتے ہیں اور پھر سلف کے زمانہ میں تو یہ جدید امور بالکل اسی شکل وصورت میں معروف نہ تھے 'اس لیے  میری رائے یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دونوں خوبیوں کو یکجا کرے'یعنی  اولاً تو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر اعتماد اور ثانیاً سلف صالحاً 'خلفائے راشدین 'صحابہ کرام اور مسلمانوں کے آئمہ  کے کلام سے استفادہ   کرے اور پھر معاصر علماء نے ان جدید مسائل کے بارے میں جو لکھا ہے  'اسے بھی پڑھے کیونکہ یہ مسائل اپنی اسی شکل وصورت  میں  سلف کے زمانے  میں معروف نہ تھے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص310

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ