سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(297) باپ کے کہنے سے بیوی کو طلاق نہ دو

  • 10654
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-23
  • مشاہدات : 673

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی اور میرے باپ کا آپس میں اختلاف ہوگیا' جس کی وجہ سے میرے باپ نے  مجھ سے اصرار کے ساتھ یہ مطالبہ شروع کردیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ورنہ وہ (میرا باپ) مجھ  سے روز قیامت  تک بری (اور الگ) ہے'تو کیا میں اپنی بیوی کو  طلاق دے دوں حالانکہ  اس نے کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ ہی میرے حق میں کوئی کوتاہی کی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس طرح اکثر ہوتا ہے اور پھر بعد میں صلح  ہوجاتی ہے اور دونوں فریق ہوجاتے  ہیں اور پھر وقت  گزر  جانے کے بعد ہر ایک ندامت  کا اظہار کرتا ہے' لہذا پنی بیوی کو طلاق دینے میں جلدی نہ کریں بلکہ آپ کے والد  ساتھ  نا مناسب  رویہ  پر سرزنش کے طور پر میکے بھیج دیں اور پھر اپنے باپ کو مطمئن کرنے کی  کوشش کریں۔ بیوی کی طرف سے معذرت کریں اور انہیں معافی اور درگزر کی  ترغیب  دیں تاکہ  وہ اپنے مطالبہ سے رجوع کرلیں۔اگر  بیوی نے کوئی  گناہ  یا کوتاہی نہ کی ہو تو پھر اپنے باپ کے کہنے پر اسے طلاق نہ دیں۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص232

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ