سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(295) باپ کے باقی ماندہ مال پر قبضہ جائز نہیں

  • 10652
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-23
  • مشاہدات : 583

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب میرا والد  کچھ چیزیں لینے کے لیے مجھے بھیجے  اور خریداری کے بعد کچھ مال بچ جائے تو کیا والد کو بتائے بغیر  میرے لیے اس باقی ماندہ مال کو اپنے پاس رکھنا جائز ہے؟ جب کوئی ایسا مسلمان فوت ہوجائے جو اپنی زندگی میں فاسق  ہوتو کیا اس کے لیے رحمت کی دعا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب آپ کے والد صاحب کچھ اشیاء خریدنے  کے لیے مال دیں تو خریداری  سے بچے ہوئے مال کو اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ واجب  یہ ہے کہ  مال اپنے والد کو واپس  کریں کیونکہ اس کاتعلق اس امانت  کے ادا کرنے سے ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیت کریمہ میں  حکم دیا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها... ﴿٥٨﴾... سورةالنساء

’’(مسلمانو!) اللہ  تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت  کے حوالہ کردیا کرو۔‘‘

ہاں فاسق  شخص  کے لیے رحمت اور عفو و مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے۔اگر کافر نہ ہوتو نامز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص231

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ