سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

صف کے پیچھے منفرد کی نماز

  • 10230
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-25
  • مشاہدات : 730

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب میں رکوع سے تھوڑی سی دیر پہلے نماز میں شامل ہوجائوں تو کیا سورت فاتحہ کو شروع کروں یا دعاء استفتاح کو؟اور اگر امام میرے سورت فاتحہ مکمل پڑھنے سے پہلے رکوع میں چلا جائے تو کیا کروں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دعاء استفتاح کا پڑھنا سنت ہے۔جب کہ اہل علم کے صحیح قول کے مطابق سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ لہذا جب یہ خدشہ ہو کہ صورت فاتحہ پڑھنے کی صورت میں فاتحہ نہ پڑھ سکوگے تو پھر سورت فاتحہ سے آغاز کرو اگر فاتحہ کی تکمیل سے قبل امام رکوع میں چلا جائے تو تم بھی رکوع میں چلے جائو فاتحہ کا باقی حصہ پڑھنا ساقط ہوجائےگا۔1''کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے کہ:

إنما جعل الإمام ليؤتم به فلا تختلفوا عليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا ركع فاركعوا،‏‏‏

‏(صحیح بخاری حدیث نمبر 722)

''امام اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔''


1.یہ رائے بھی محل نظر ہے اگر مقتدی نصف یا نصف سے زیادہ سورۃفاتحہ پڑھ چکا ہے تو اس کے لئے سورہ فاتحہ مکمل کرکے امام کے ساتھ رکوع میں مل جانا کوئی مشکل امر ہے اور نہ اس میں امام کی مخالفت ہی کا پہلو ہے جب کہ فتویٰ میں ظاہر کردہ رائے میں سورہ فاتحہ کی تکمیل کے بغیر ہی ر کعت شمار کر لی گئی ہے۔جو صحیح نہیں ہے۔اس لئے صورت مسئولہ میں سورہ فاتحہ کی تکمیل کرکے رکوع میں شامل ہوناچاہیے اور اگر مقتدی کے لئے سورہ فاتحہ کا پورا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر امام کے ساتھ رکوع میں چلا جائے اور یہ رکعت بعد میں پوری کرے کیونکہ سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے یہ رکعت شمار نہیں ہوگی۔(ص۔ی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص343

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ