سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(688) دس رکعات نماز کی نذر مانی تھی

  • 10073
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-17
  • مشاہدات : 982

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میرے پائوں کا درد کم ہو گیا تو میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کیلئے دس رکعات نماز ادا کروں گا لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ دو دو کر کے میں پانچ دنوں میں یہ دس رکعات پڑھوں یا ایک دن میں پڑھ لوں۔ رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب مذکورہ شرط پائی جائے یعنی آپ کے پائوں کا درد کم ہوجائے تو آپ کیلئے یہ ضروری ہے کہ نذر کو فوراً پورا کریں اور دس رکعات ایسے وقت میں پڑھیں جس میں نماز پڑھنا ممنوع نہ ہو اور دو دو رعکات کر کے پڑھیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى۔(سنن ابی داؤد)

’’رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے‘‘۔

نیز آپ نے فرمایا:

«مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ۔ ( صحیح بخاری)

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے تو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص551

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ