سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(289) نماز باجماعت کے بعد نبیﷺ پر بلند آواز سے دورد پڑھنا؟

  • 8258
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-15
  • مشاہدات : 361

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 مندرجہ ذیل مسائل میں شریعت اسلامی کا کیا حکم ہے:

۱۔   نماز باجماعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر بلند آواز سے دورد پڑھنا؟

۲۔  نماز کے بعد باجماعت دعا کرنا ؟

۳۔  کچھ لوگوں کا مل کر قرآن پڑھنا گانا؟

۴۔  نابینا معمر امام کے پیچھے نماز پڑھنا ،ج کہ وہ کبھی کبھی غلطی بھی کر جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

۱۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر دورد پڑھنے کا بہت عظیم ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی ترغیب دی ہے او ر بتایا ہے کہ اس کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔ ثواب ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا:

((مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِھَا عَشْرًا))

جو شخص مجھ پر ایک بار دورد پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ [1]

  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا نام ذکر کرنے پر نماز میں تشہد کے دوران ، خطبہ اور خطبہ ، نکاح وغیرہ میں دورد پڑھنا شرعی طور پر ضروری ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے یا صحابہ کرام  صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ائمہ سلف امام ابو حنفیہ ، اما لیث بن سعد ، امام شافعی امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ  اوردیگر آئمہ رحمہم اللہ  سے یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ نماز باجماعت کے بعد بلند آواز سے دورد پڑھتی ہوں اور بھلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام  صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے میں ہی ہے کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا ہے:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

۲۔  دعا عبادت ہے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ کرام  صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ وہ (ہر ) نماز بعد باجماعت دعا مانگتے ہوں ۔ لہٰذا اسلام پھیرنے کے بعد نمازیوں کا باجماعت دعا کے لیے جمع ہونا خود ساختہ بدعت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:

((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسْ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَرَدٌّ))

’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیاجو ہمارے دین کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

۳۔  اگر مل کرقرآن پڑھنے سے آپ کا یہ مطلب ہے کہ سب مل کر بیک آواز تلاوت کریں تویہ مشروع نہیں۔ کیونکہ یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم  یا صحابہ کرام  صلی اللہ علیہ وسلم سے نقول نہیں اگر سائل کا یہ مطلب ہے کہ ایک آدمی قرآن پڑھے اور دوسرے سنیں ، یا یہ مطلب ہے کہ ایک جگہ جو لوگ جمع ہیں ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی تلاوت کرے اوریہ کوشش نہ کریں کہ حرکات وسکنات اور وقف ووصل وغیرہ میں ان کی آوازیں ہم آہنگ ہوں تو یہ شرعی طورپر درست ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

))مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِ اللّٰہِ یَتْلُونَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہٗ بَیْنَہُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَة وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَة وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَآئِکَة وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ  فِیمَنْ عِنْدَہٗ))

’’ جب کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب پڑھتے اور ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں ، تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔ ان کو فرشتے ہیں ، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان (فرشتوں ) میں ان کا ذکر کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا’’ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مجھے قرآن سناؤ۔‘‘ میں نے عرض ک۔’’ (حضور!) میں آپ کو سناؤں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر وہ نازل ہوا ہے؟ ارشاد ’’ میں کسی سے سننا پسند کرتاہوں۔‘‘ میں سورت نساء پڑھنے لگا۔ جب میں آیت پر پہنچا:

﴿فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّة بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا﴾

’’ اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بناکے لائیں گے؟‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ بس کرو۔ (میں نے دیکھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آنکھوں سے آنسورواں تھے۔‘‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے۔

۴۔  نابینا امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر یہ امام اپنے مقتویوں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا (حافظ یا عالم) ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہوگا۔ کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان عام ہے۔

((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُہُمْ لِکِتَابِ اللہِ…))

’’ لوگوں کو وہ شخص نماز پڑھائے جو کتاب اللہ کو زیادہ جانتا ہو…‘‘

نابینا ہونا شرعا کوئی عیب نہیں ہے۔

اگر امام غلطیاں کرتاہے، اگر تو یہ غلطی ایسی ہے جس سے معنی میں تبدیلی نہیں آتی ، تو اس قسم کی غلطیاں نہ کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے اگر ایسا آسانی سے ہو سکے اور اگر وہ سورت فاتحہ میں اس قسم کی غلطیاں کرتاہو جس سے معنی میں تبدیلی آجاتی ہے تو اس کے پیچھے نماز باطل ہے لیکن اس کی وجہ اس کی غلطیاں ہونا ہیں، اس کا نابینا ہونا نہیں مثلا ایاک نعبد میں ’’کاف‘‘ پر زیر پڑھنا۔یا انعمت کی ’’ تاء ‘‘ پر پیش یا زبر پڑھنا۔ اگر غلطیاں اس لیے ہوتی ہیں کہ حفظ کمز ور ہے تو جس کو قرآن زیادہ اچھی طرح یاد ہے وہ امامت کا زیادہ مستحق ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحبِهِ وَسَلَّمَ

 اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔


[1]         مسند احمد ج: ۲، ص: ۲۶۵،۔ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۳۸۴، ۴۰۸، ابوداؤد حدیث نمبر ۱۵۳۰، نسائی ج: ۳، ص: ۵۰ ترمذی حدیث نمبر: ۴۸۵، دارمی حدیث نمبر: ۲۷۷۵، ابن خزیمہ ج: ۱، ص: ۲۱۹۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 325

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ