سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(41) قریہ واحد میں متعدد جگہ جمعہ پڑھنا

  • 4472
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-19
  • مشاہدات : 248

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قریہ واحد میں متعدد جگہ جمعہ پڑھنا اور خطبہ جمعہ میں تعبیر تذکیر بالقرآن والحدیث محض سورۃ قرآنیہ و اشعار پنجابیہ جن میں مسائل ضعیفہ موضوعہ بطرز شاعر ہوتے ہیں۔ پڑھ کر اکتفاء کرنا اور جامع مسجد جو اکبر المساجد ہے اس میں حاضر ہو کر ذکر اللہ نہ سننا یہ طریق جائز و درست ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قریہ واحد میں متعدد جگہ جمعہ پڑھنا اور خطبہ جمعہ میں تعبیر تذکیر بالقرآن والحدیث محض سورۃ قرآنیہ و اشعار پنجابیہ جن میں مسائل ضعیفہ موضوعہ بطرز شاعر ہوتے ہیں۔ پڑھ کر اکتفاء کرنا اور جامع مسجد جو اکبر المساجد ہے اس میں حاضر ہو کر ذکر اللہ نہ سننا یہ طریق جائز و درست ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کے جواب میں مولوی عبدالقادر حصاری نے تعدد جمعہ کے عدم جواز کی جو دلیل بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ اور خلفاء کے زمانہ میں جمعہ ایک جگہ ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اہل عوالی بھی جمعہ آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ لہٰذا ایک شہر میں یا قریب قریب دیہات میں الگ الگ جمعہ پڑھنا جائز نہیں۔ اس سے پہلے یہ لکھا ہے کہ تعامل قرونِ ثلاثہ کا اس امر کی تصریح ہے کہ جہاں اقامتِ جمعہ ہو وہاں سب کے سب مسلمانوں کی جماعت یکجا ہو کر جمعہ پڑھے جہاں دو ہوں وہاں دو پڑھیں کیوں کہ ’’ الاثنان فما فوقھما جماعۃ‘‘ یعنی دو یا دو سے زیادہ جماعت ہیں۔ جہاں دو سے زیادہ تین یا پانچ حتیٰ کہ پچاس یا سو یا دو سویا ہزار تک ہوں گے۔ اس جماعت پر بحالت مجموعی جمعہ فرض ہوگا۔ فرداً گر وہ ہو کر اپنے گھروں اور محلوں میں پڑھنا جائز ہوگا۔ بلکہ سب جماعت اسلامی کو جمعہ کی مسجد دوسری مسجدوں سے ممتاز اور ایک جدا معین کرنے پڑے گی جس میں مسلمانوں کو ایک نماز پڑھنے سے پانچ سو نمازوں کا ثواب ہوگا۔ یہ نہیں کہ ہر محلہ میں جامع مسجد ہوگی، کیوں کہ جامع مسجد کا عطف عبارت حدیث میں محلہ کی مسجد پر ڈالا گیا ہے۔ جو غیریت کو چاہتا ہے اور مفہوم ہوتا ہے کہ جمعہ ایک جامعین ہونا مشروع ہے اور جمعہ کے معنی بھی جمع ہونے کے ہیں کہ اس روز اہل اسلام کا اجتماع خاص ہوتا ہے یعنی سب یکجا جمع ہوتے ہیں۔ نہ مثل پنجگانہ نماز کی کہ وہ اجتماع خاص نہیں ہے۔  (ملخص)

جواب:… محدث روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بڑی دلیل تعدد جمعہ کے عدم جواز کی جو آپ نے پیش کی ہے کہ رسول اللہﷺ اور خلفاء کے زمانہ میں جمعہ ایک جگہ ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ عوالی بھی جمعہ آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ سو یہ دلیل اس صورت میں مکمل ہوسکتی ہے کہ فعل سے شرط ہونا ثابت ہو جائے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ فعل شرط ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ اگر شرط ہونے پر دلالت کرتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کمزوروں کو مسجد میں الگ عید پڑھانے کے لیے کسی کو مقرر نہ کرتے کیوں کہ اس سے پہلے کمزوروں کی رعایت سے عید دو جگہ نہیں ہوتی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو جگہ کردی۔ پس ثابت ہوا کہ ایک جگہ ہونا شرط نہیں۔ جس کی وجہ یہی ہے کہ فعل شرط پر دلالت نہیں کرتا۔ ذی الحلیفہ مدینہ منورہ سے سات میل ہے اور بعض عوالی آٹھ میل ہیں اور چار میل تک تو کثرت سے ہیں چنانچہ عون المعبود وغیرہ میں اس کی تفصیل ہے۔ تو اَب تین صورتیں ہیں کہ اتنی دور سے جمعہ کو آنا یا تو اس لیے ہے کہ گاؤں میں جمعہ جائز نہیں یا اس لیے کہ آٹھ میل تک تعدد جمعہ جائز نہیں یا وہ لوگ جمعہ پڑھنے فضیلت کے لیے آتے تھے۔ پہلی صورت صحیح نہیں کیوں کہ گاؤں میں جمعہ صحیح ہے اور دوسری بھی صحیح نہیں کیوں کہ حدیث میں آیا ہے:

الجمعۃ علی کل من سمع النداء (ابوداؤد) یعنی جمعہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو اذان سنے۔ اور قرآن مجید میں ہے:

{یا ایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع }

’’یعنی اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف دوڑو، اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘

اس آیت سے جمعہ کو آنا اُس وقت لازم ہے جب اذان ہو جائے۔ اگر سات آٹھ کوس سے جمعہ کو آنا ضروری ہو تو پھر صبح سے چلنا ہوگا۔ حالاں کہ یہ آیت کے خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو فتح الباری جز ۴، ص ۴۸۸

پس جب پہلی دو صورتیں صحیح نہ ہوئیں تو تیسری صورت متعین ہوگی کہ فضیلت کے لیے آتے تھے پس ثابت ہوا کہ تعدد جمعہ جائز ہے۔ نیز مسلم میں حدیث ہے:

کان الناس یتنابون الجمعۃ من منازلھم ومن العوالی۔

(مسلم، ص۲۸۰)

’’ یعنی لوگ اپنے گھروں سے اور عوالی سے یکے بعد دیگرے جمعہ کو آتے تھے۔‘‘

اس حدیث میں عوالی سے آنے کا الگ ذکر ہے اور گھر وں سے آنے کا الگ ذکر ہے۔ گھروں سے آنے والوں میں اہلِ مدینہ بھی شامل ہیں۔ جب اہل عوالی کا محض فضیلت کے لیے آنا ثابت ہوا تو تمام اہلِ مدینہ کا رسول اللہﷺ کے پیچھے آکر جمعہ پڑھنا بھی محض فضیلت کے لیے ہوا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک شہر میں بھی تعدد جمعہ جائز ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہنا کہ خلفاء راشدین کے زمانہ میں دو جگہ جمعہ نہیں ہوا یہ ٹھیک نہیں کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تعدد جمعہ ثابت ہے۔

رسائل الارکان میں ہے:

ولنا ماصح عن امیر المومنین علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ امر بتعدد الجمعۃ وھذا الاثر صحیخ صححہ ابن تیمیۃ فی منھاج السنۃ۔

(رسائل الارکان، ص۱۱۸)

’’یعنی امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تعدد جمعہ کا امر فرمایا۔ یہ روایت صحیح ہے، ابن تیمیہ نے اس کو منہاج السنۃ میں صحیح کہا ہے۔‘‘

نواب صاحب السراج الوہاج شرح ملخص صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:

فاما تعدد الجمعات فی مصرو احد فھذہ المسئلۃ قد اشتھرت بین اھل المذاھب وتکلموا فیھا وصنف فیھا من صنف وھی مبنیۃ علی غیر اساس ولیس علیھا اثارۃ من علم قط و ماظنہ بعض المتکلمین فیھا من کونہ دلیلا علیھا ھو بمعزل عن الدلالۃ وما اوقھم فی ھذہ الاوال الفاسدۃ الا ما زعموہ من الشروط التی اشترطوھا بلا دلیل ولا شبھۃ دلیل فالحاصل ان صلوٰۃ الجماعۃ صلوٰۃ من الصلوات یجوزان تقام فی وقت واحد جمع متعددۃ فی مصرو احدکما تقام جماعات سائر الصلوٰت فی المصر الواحد ولو کانت المساجد متلا صقۃ ومن زعم خلاف ھذا کان مستند زعمہ مجردا الرای فلیس ذالک حجۃ علی احد وان کان مستند زعمہ الروایۃ فلا روایۃ ھذا ما افاد العلامۃ الشوکانی فی کتاب السیل الجرار رحمۃ اللہ۔

(السراج الوھاج،ص۲۹۸)

یعنی ایک شہر میں تعدد جمعہ کا مسئلہ اہل مذاہب میں بہت مشہور ہے اس لیے انہوں نے بحث کی ہے اور کتابیں لکھی ہیں اور یہ مسئلہ کسی بنیاد پر قائم نہیں ہوا نہ اس پر کوئی دلیل ہے اور جس کو بعض نے دلیل خیال کیا ہے وہ دلیل ہونے سے دور ہے اور اس قسم کے فاسدہ اقوال کے وہ صرف اس لیے قائل ہوئے ہیں کہ انہوں نے حسب زعم جمعہ کو کئی شرطوں سے مشروط کر رکھا ہے۔ حالاں کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ دلیل کا شائبہ بھی نہیں۔ خلاصہ یہ کہ جمعہ نمازوں سے ایک نماز ہے۔ اس کے جواز تعدد میں کوئی شبہ نہیں۔ جیسے باقی نمازوں کی متعدد جماعتیں جائز ہیں۔ اگرچہ مسجدیں قریب قریب ہوں اور جس نے اس کے خلاف خیال کیا۔ اگر اس کا اعتماد صرف رائے پر ہو تو یہ کسی پر حجت نہیں۔ اور اگر کسی روایت پر اعتماد ہو تو ایسی کوئی روایت نہیں جو تعدد کو منع کرے۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے السیل الجیرا میں اس طرح لکھا ہے۔

نواب صاحب اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ کے لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کامل کر جمعہ پڑھنا کوئی فضیلت نہیں رکھتا۔ اگر یہ بات ہوتی تو اہل عوالی کو مدینہ آکر جمعہ پڑھنے کی تکلیف اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔ خیر رسول اللہﷺکے زمانہ میں تو کہہ سکتے ہیں کہ نبی علیہ السلام سے براہِ راست وعظ سننے اور احکام سیکھنے کے لیے آتے تھے۔ بعد کے زمانہ میں تو بڑی وجہ فضیلت ہی بنتی ہے پس نواب صاحب اور علامہ شوکانی فضیلت کی نفی نہیں کرسکتے بلکہ ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک جگہ پڑھنا شرط نہیں۔ جیسے دوسرے نمازوں میں یہ شرط نہیں اگر کہا جائے کہ پانچ نمازوں کا ایک جگہ ہونا یہ بھی فضیلت ہے۔ تو پھر اہل عوالی اور مدینہ کی دوسری مسجدوں والے پانچوں نمازیں ایک جگہ کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ تو اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ دور دور سے ہفتہ میں ایک دفعہ اکٹھے ہونا تو معمولی بات ہے۔ روز مرہ اور وہ بھی پانچ وقت اکٹھے ہونا مشکل ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے اپنی نمازوں میں سے کچھ گھروں میں کرو۔ (مشکوٰۃ باب المساجد) یعنی فرض مسجدوں میں پڑھو اور نفل گھروں میں۔ اس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ محلہ محلہ میں اذان ہو۔ اور جماعتیں قائم ہوں۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

امر رسول اللہ ﷺ ببناء المسجد فی الدوروان ینطف وان یطیب (مشکوٰۃ باب المساجد) یعنی رسول اللہﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور ان کو صاف رکھنے اور خوشبو لگانے کا ارشاد فرمایا۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ جمعہ کا ایک ہونا اگرچہ شرط نہیں لیکن وعظ وغیرہ کے اہتمام کے لیے سب کا ایک جگہ جمعہ پڑھنا ایک اہم امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ وقتی نماز کی جماعت نہ ملے تو اکیلے کی بھی ہو جاتی ہے لیکن جمعہ اکیلے کا نہیں ہوتا۔ پس جب جمعہ میں وعظ وغیرہ کی خاطر جماعت کا اہتمام زیادہ ہو تو اس میں اکٹھ کی اہمیت زیادہ ہوئی اس لیے اہل عوالی اور مدینے والے دور دور سے آکر شریک ہوتے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی اہتمام کی وجہ سے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو لکھا کہ جمعہ کے دن اکٹھے ہو جایا کرو۔ اور اہل قباء کو رسول اللہﷺ کا مسجد نبوی میں آنے کا ارشاد فرمانا اگر صحیح ثابت ہوجائے تو اس کی وجہ بھی یہی زیادت اہتمام ہے۔

خلاصہ یہ کہ جمعہ کا ایک جگہ ہونا ایک اہم امر ہے۔ اور اُس کی فضیلت بڑی ہے۔ لیکن شرط نہیں راجح مذہب یہی ہے ہاں کوئی احتیاط کرے تو الگ چیز ہے۔ واللہ الموفق  عبداللہ امرتسری

(فتاویٰ اہل حدیث، ص ۳۴۹)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04 ص 94-97

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ