سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(93) جب عورت کے اولاد پیدا ہوتی ہے تو وہ مولود کا ناڑا کاٹ..الخ

  • 3662
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-07
  • مشاہدات : 1050

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کے جب عورت کے اولاد پیدا ہوتی ہے تو وہ مولود کا ناڑا کاٹ کر اسی گھر میں جہاں وہ پیدا ہوا دفن کرتے ہیں اور کچھ چھلے وغیرہ آگ میں جلاتے ہیں۔اور مولود کو سو پیلا یعنی چھاج میں لٹاتے ہیں سو یہ درست ہے یا نہیں؟

سوال نمبر 2۔جب عورتوں کے اولاد پید ا وہوتی ہے تو سوا مہینہ کنواں پر جانا اور اسی کوچھونابرا جانتی ہیں۔جب خون نفاس سے فارغ ہو جاتی ہیں۔اور تاریخ ولادت سے چالیس روز گزر جاتے ہیں تو کنویں پر جاتی ہیں اور کنویں میں خواجہ خضر کوسمجھ کر تھوڑا سندور اور چاول اورسرسوںاسی کنویں پر کھتی ہیں۔بعد اذان پانی بھر کر چلی آتی ہیں۔اس کو کنواں چھونا کہتے ہیں۔تو اس کا نکاح باقی رہا یانہیں۔اور یہ رسم کیسی ہے۔؟

سوال نمبر 3۔جو عورت ایسا کام کرے اس کا نکاح ٹوٹ جائے تو اس پر طلاق رجعی عائد ہوئی یا نہیں اور وہ عورت کس صورت سے اسی شوہر کے نکاح میں آسکتی ہے۔؟

سوال نمبر 4۔ایک آدمی نےاپنی عورت کو اسقاط حمل کی دعا دی اس کا حمل گر گیا تو وہ شخص گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

5۔یا اپنی عورت کو ایسی دوا دیتا ہے۔کہ جس سے حمل نہ رہے اور وہ بانجھ ہو جاوے درست ہے یا نہیں فقط۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جواب۔1۔یہ رسم نادرست اور ناجائز ہے۔اس واسطے کے محض بے اصل ہے اس کی شرع سے کوئی سند نہیں ہے اور مولود کو سو پیلا میں لٹانا بھی نہیں چاہیے۔ کیونکہ عوام اس فعل کو اس غرض سے کرتے ہیں کہ اس سے مولود زندہ رہے گا۔لہذا اس فعل سے اجتناب چاہیے۔

جواب۔2۔یہ رسم بالکل جہالت اور ضلالت کی رسم ہے۔اس سے بھی اجتناب لازم ہے۔سوامہینے تک کنویں پر جانے کواس خیال سے برا سمجھناکہ کنویں میں خواجہ خضر رہتے ہیں۔  عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ عقل کے خلاف اس وجہ  سے ہے کہ جب ایک خاص کنویں میں خضر ؑ کا وجود مانا جاوے گا تو اور کنووں میں بھی ان کا وجود ضرور ماننا پڑے گا۔ورنہ تخصیص بلامخصص لازم آئے گی۔اور جب دیگر کنووں میں بھی حضرت خضر  کا وجود مانا جائےگا۔تو بہت سے خضر کا ہونا لزم آئے گا۔کیونکہ شخص واحد کا ایکوقت میں ممکنہ متعدد جگہوں میں  ہونا محال ہے۔اور حسب تعداد کنووں کے بہت سےخضر کا ہونا  اور حسب کمی بیشی کنووں کے خضر کا کم و بیش ہونا بالکل خلاف عقل ہے۔اور خلاف نقل اس وجہ سے ہے کہ کسی نقلی دلیل سے حضرت خضر ؑ کا کنویں میں ثابت نہیں بلکہ کسی دلیل سے اب ان کا موجود ہونا بھی ثابت نہیں بلکہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے حضرت خضر علیہ السلام کا زندہ نہ ہونا صاف طو ر پر ثابت ہے۔

1عن عبد الله بن عمر قال صلي النبي صلي الله عليه وسلم صلواة العشاء في اخر حياته فلما سلم قام النبي صلي الله عليه وسلم فقال ارايتكم ليلتكم هذه فان راس مائة سنة لا يبقي ممن هو اليوم علي ظهر الارض احد الحديث

غرض حضرت خضر ؑ کو کنویں میں سمجھنا اور تاریخ ولادت سے سوا مہینے تک کنویں پر نہ جانا اور اس کے چھونے کو برا سمجھنا اور چالیس دن گزر جانے کے بعد سندور وغیرہ کنویں پر رکھنا نہایت ہی بری رسم ہے۔اور سراسر جہالت اور ضلالت کی بات ہے جو عورت ی کنوان چھونے کی ر سم کرے گا۔وہ بلاشبہ گناہ گار ہوگا مگر ہاں اس رسم سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

جواب۔3۔جوعورت ایسا کام کرے کے جس کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جائے تو اس۔طلاق عائد نہیں ہوتی ہے۔

1۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنی آخری زندگی میں ایک عشاء کی نماز پڑھائی آپ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوتے اور فرمایا کہ آج کی رات مجھے معلوم ہوا کے آج سے سو سال تک دنیا کا کوئی انسان موجود نہ ہے گا۔

نہ بائن اور نہ رجعی اور وہ عورت اگر اپنے شوہر کے نکاح  میں آنا چاہے تو اس کوچاہیے کہ اس کام سے توبہ کرے اور اس سے نکاح کرے۔

جواب۔4۔اگر نفخ روح کے بعد اسقاط حمل کی دوادی اور حمل گر گیا تو وہ بالاتفاق گناہ گار ہوگا اور بہت بڑا گناہ گار ہوگا۔اور قبل نفخ روح کے اسقاط حمل کی دوا دی او ر حمل گر گیا تو اس صورت میں جن علماء کے نزدیک عزل ناجائز ہے ان کے نزدیک وہ گناہ گار ہوگا اور جب علماء کے نزدیک عزل جائز ہے ان کے نزدیک گناہ گار نہ ہوگا۔حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں۔

عزل کے حکم سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔کہ جان پڑنے سے پہلے عورت کا حمل گرادینا بھی جائز ہے۔اور جو عزل کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک حمل گرانا ناجائز ہے۔جو عزل کو جائز سمجھتے ہین وہ اس کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔اور جو عزل کو جائز سمجھتے ہیں وہ اسقاط کو ناجائز بھی کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ عزل میں سبب ممانعت کوئی نہیں ہے۔اور یہاں سبب موجود ہے۔ابن  الہام نے فتح القدیر میں کہا ہے جب تک جان نہ پڑے حمل کا گرادینا جائز ہے۔اور خانیہ میں ہے کہ اسقاط حمل کو مطلقا مباح کہنا درست نہیں ہے۔کیونکہ مجرم اگر کسی کا انڈا توڑ ڈالے۔تو اس پر  ضمان ہے کیونکہ وہ شکار کا اصل ہے۔اور جس صورت میں وہاں جزا جے باوجود گناہ بھی ہوتا ہے تو بغیر عذر آدمی کے حمل  کو گرادینا اس سے کم تو نہیں ہوگا۔ بحر مین کہا ہے  کہ خانیہ کی روایت پر عمل کرنا چاہیے۔اور ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ امام ابو حنیفہ سے ثابت نہیں ہے اسی لئے تو اسے قالوا کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔''

جواب 5۔ایسی دوا جس سے حمل نہ رہے حکم میں اسقاط قبل از نفخ روح کے ہے پس جن کے نزدیک وہ جائز ہے یہ بھی جائز ہے۔او ر جن کےنزدیک وہ جائز نہیں یہ بھی جائز نہیں ۔

(حررہ عبد الرحیم ۔سید محمد نزیر حسین دہلوی۔فتاویٰ نزیریہ 209)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 348-352

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ