سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(66) بچہ اگر چند سانس لے کر فوت ہو جائے یا مردہ پیدا ہو تو اس کے جنازہ کا کیا حکم ہے؟

  • 25181
  • تاریخ اشاعت : 2018-03-27
  • مشاہدات : 2514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 اگر کوئی بچہ پیدا ہو لیکن وہ فوت ہو جائے قبل اس کے کہ اُس کے کان میں اذان دی جائے ۔ اس صورت میں کیا اس کا جنازہ عام طور کے مطابق پڑھا جائے گا یا بغیر جنازہ کے ہی دفن کردیا جائے گا۔

ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اگر بچہ خواہ ایک ہی سانس کیوں نہ لے اُس کا جنازہ ضرور پڑھا جائے گا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ (جماعت اہل حدیث کڑیاں کلاں) ( ۳ جولائی ۱۹۹۲ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورتِ مسئولہ میں بالاتفاق بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ ہاں البتہ اگر بچہ مرا ہوا پیدا ہو تو اس بارے میں اختلاف ہے۔ جمہور علماء کا کہنا ہے اگر پیدائش کے بعد زندگی کی علامتیں ظاہر ہو جائیں تو اس صورت میں اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ورنہ نہیں۔

علامہ شوکانی رحمہ اللہ  نے’’نیل الاوطار‘‘ میں اسی مذہب کو ترجیح دی ہے اور شیخی المکرم محدث روپڑی رحمہ اللہ نے بھی فتاویٰ اہل حدیث میں اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔اس بارے میں وارد جملہ احادیث ضعیف ہے ۔ تاہم ان کے طرق کو جمع کرکے استناد لینے کی سعی کی گئی ہے۔

اہل علم کا دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ بچے میں جب روح پھونکی جا چکی ہو اور وہ مردہ پیدا ہو۔اس کے باوجود اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے اس مسلک کو امام احمد اور اسحاق بن راہویہ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  صاحب المنتقٰی نے اختیار کیا ہے۔ محقق العصر شیخ ابن باز بھی تعلیقات فتح الباری میں اسی بات کے قائل ہیں۔ محقق اور مؤید بالدلائل یہی مسلک معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالسِّقْطُ یُصَلَّی عَلَیْهِ، وَیُدْعَی لِوَالِدَیْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ ‘(مسند احمد ،رقم: ۱۸۱۷۴،سنده حسن۔ سنن ابیداؤد،بَابُ الْمَشْیِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ،رقم:۳۱۸۰)

’’یعنی نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کچا بچہ جو پورے دنوں سے پہلے گر جائے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے لیے بخشش و رحمت کی دعا کی جائے ۔‘‘

شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے جب کہ علامہ البانی نے ’’ارواء الغلیل‘‘ میں اس پر صحت کا حکم لگایا ہے۔ اور امام ترمذی فرماتے ہیں: ’ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ ۔

اور ’’حاکم‘‘ کا کہنا ہے:’صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِیِّ ‘ اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ایک مسلمان کی میت ہے دیگر مسلمانوں کی طرح اس کی نمازِ جنازہ بھی مشروع ہونی چاہیے۔ تفریق کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ بچے کے کان میں اذان کا دیاجانا جنازہ کے لیے شرط نہیں ہے۔ 

   ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:125

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ