سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(282) دجال سے بچاؤ کے ہتھیار کیا ہوں گے؟

  • 23652
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-25
  • مشاہدات : 1331

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یوں محسوس ہوتا ہے کہ دجال کا ظہور قریب آ پہنچا ہے۔ بعض قرائن سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر دجال کا ظہور ہمارے ہوتے ہوئے ہو جائے تو ہمیں اس فتنے سے بچاؤ کے لیے کیا راستہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ ہمارا ایمان سلامت رہ سکے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دجال کے فتنے سے بچاؤ کا بنیادی اور مضبوط ہتھیار تو ایمان کا مضبوط ہونا ہے۔ اسی ایمان کی بنیاد پر کچھ احتیاطی تدابیر بھی اس سلسلے میں کارآمد ہو سکتی ہیں۔

دجال کا انکار اور اللہ تعالیٰ پر توکل بھی دجال اکبر سے محفوظ رہنے کا ایک سبب ہو گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ دجال سے پناہ مانگنے کا حکم بھی دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی نماز کے دوسرے (آخری) تشہد میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے جس میں فتنہ دجال سے بچاؤ کا تذکرہ بھی ہے:

(اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات اللهم إني أعوذ بك من المغرم)(بخاري، الاذان، الدعاء قبل السلام، ح: 832، مسلم، ح: 590)

’’اللہ! میں عذاب قبر، فتنہ مسیح دجال، موت و حیات کے فتنے، گناہ اور تاوان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:

(اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ)(بخاري، الادعوات، التعوذ من فتنة الفقر، ح: 6377)

’’اللہ! میں آگ کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے فتنے اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور امیری و فقیری کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ! میں مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إذا فرغ أحدكم من التشهد الآخر، فليتعوذ بالله من أربع: من عذاب جهنم، ومن عذاب القبر، ومن فتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال)(مسلم، المساجد، ما یستعاذ فی الصلاۃ، ح: 577)

’’جب تم آخری تشہد پڑھ لو تو (سلام پھیرنے سے قبل) چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو، جہنم ، قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے پناہ مانگو۔‘‘

جو مومن شخص سورۃ الکھف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لے اور دجال کا سامنا ہونے پر ان کی تلاوت کرے تو اِن آیات کی برکت سے وہ شخص فتنہ دجال سے محفوظ ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(من حفظ عشر ايات من اول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال)(مسلم، صلاة المسافرین، فضل سورة الکھف و ایة الکرسی، ح: 809)

’’جس نے سورۃ الکھف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لیں اسے فتنہ دجال سے بچا لیا جائے گا۔‘‘

ایک اور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته) (ابوداؤد، الملاحم، ذکر الدجال، ح: 4321)

’’تم میں سے جو بھی دجال کو پائے تو اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات تلاوت کرے کیونکہ یہ آیات تمہیں اس کے فتنے سے بچانے کا ذریعہ ہوں گی۔‘‘

وہ اہل ایمان جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوں گے وہ بھی دجال کے فتنہ سے مامون ہوں گے، ان مقدس شہروں میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔ (اسی طرح وہ بیت المقدس میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا)۔ ارشاد نبوی ہے:

(لا يدخل الدجال مكة ولا المدينة) (مسند احمد 241/6)

’’دجال مکہ میں داخل ہو سکے گا نہ مدینہ میں۔‘‘

دجال نہ تو خود مدینہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ اس کا رعب و دبدبہ۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ کے تمام راستوں پر صفیں باندھ کر پہرپ دے رہے ہوں گے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا ، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ) (بخاري، الفتن، لا یدخل الدجال المدینة، ح: 7134)

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال ولها يومئذ سبعة أبواب على كل باب ملكان) (ایضا، ذکر الدجال، ح: 7125)

’’مدینہ پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے پہرپ دے رہے ہوں گے۔‘‘

البتہ کفار و منافقین کو مدینہ کی رہائش اختیار کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ مدینہ میں اس وقت تین جھٹکے لگیں گے اور ایسے لوگ مدینہ سے نکل کر دجال کے قبضے  میں آ جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(يجيء الدجال حتى ينزل في ناحية المدينة، ثم ترجف المدينة ثلاث رجفات، فيخرج إليه كل منافق) (ایضا، ح: 7124)

’’دجال مدینہ کی ایک جانب پڑاؤ ڈالے گا پھر مدینہ میں تین جھٹکے آئیں گے کہ ہر منافق اس کی طرف نکل جائے گا۔‘‘

دجال کے فتنہ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کا سامنا نہ کیا جائے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنْ الشُّبُهَاتِ)(ابوداؤد، الملاحم، خروج الدجال، ح: 4319)

’’جو شخص دجال کی خبر سنے وہ اس کے سامنے نہ آئے، اللہ کی قسم! جب آدمی اس کے پاس آئے گا تو اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہو گا مگر جو شبہے کی چیزیں دجال دے کر بھیجا گیا ہو گا انہیں دیکھ کر وہ اس کی پیروی کرنے لگے گا۔‘‘

’’دجال پر وہ لوگ غالب آئیں گے جو اُس کے خلاف مسلح جہاد کریں گے۔‘‘

(مسلم، الفتن، ما یکون من فتوحات المسلمین قبل الدجال، ح: 2900)

’’دجال کے خلاف ہونے والا معرکہ اہل حق کا آخری معرکہ ہو گا۔‘‘

(ابوداؤد، الجھاد، فی دوام الجھاد، ح: 2484)

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

اصلاح عقائد و اعمال اور رسومات،صفحہ:580

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ