سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(486) غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے قبر ستان وغیرہ امور میں مداخلت کرنا

  • 23251
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-16
  • مشاہدات : 298

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میونسپلٹی مسلمانان سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر امر مانع ہو تو اُس قطعہ زمین میں دفن کرو، جو اس کام کے لیے میونسپلٹی اپنے روپیہ سے خرید کرے۔ انتظام اس زمین کا اور مسلمانوں کے مردے دفن ہونے کا میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن، ان مردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہ ہوسکتی ہو، ایک فیس مقررہ لے گی اور خام و پختہ میں فرق ہوگا۔ میونسپلٹی یہ قاعدہ بنانے پر اس لیے مجبور ہوئی ہے کہ اس کو خیال ہے کہ متفرق اندرون آبادی مردوں کے جا بجا دفن ہونے سے صحت کو ضرر پہنچتا ہے۔

میونسپلٹی ایک ایسا محکمہ ہے، جس نے حقوق و احکام شاہی سے رفاہِ عام کے لیے قریب قریب تمام اشیاء پر (مستثنیات جزوی کے سوا) جو باہر سے اندرون میونسپلٹی بغرضِ تجارت یا خاص استعمال آئیں، چنگی لینے کا عام رعایا

سے قاعدہ مقرر کیا ہے، خواہ رعایا کسی قوم و مذہب کی ہو۔ واجب الادا مال کی چنگی نہ ادا ہونے پر وہ مال ضبط ہو جاتا ہے یا جرمانہ لیا جاتا ہے۔ بہت زیادہ حصہ رعایا کا اس چنگی کو بہت کراہت اور مجبوری کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ میونسپلٹی اس رقم چنگی سے جس میں ہندو مسلمانوں وغیرہ کا روپیہ شامل ہے، مسلمان مردوں کے لیے قطعہ زمین خرید کرنا چاہتی ہے اور زمین خریدنے کا یہ قاعدہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو، بیچنا نہ چاہتا ہو یا کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو، مگر اُس کی پروا نہیں کی جائے گی، نہ وہ راضی کیا جائے گا، بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت اس کو دے دی جائے گی اور اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔

ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے جس کی تشریح اوپر کی گئی اور اس طرح زمین کا معاوضہ بالجبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا، شرعاً ناجائز و غصب ہے یا نہیں اور اُس میں مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے جائز ہے یا ناجائز؟ مکروہ ہے یا حرام اور مردہ دفن کرنے والا داخل معصیت ہے یا نہیں؟      

 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گورنمنٹ کا زمین کو معاوضہ بالجبر کے ساتھ خریدنے کے جواز و عدم جواز کے ہم جواب دہ نہیں ہیں۔ رہا اس میں مسلمان مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے مجبور مسلمانوں کے لیے تو یہ جائز ہے اور وہ زمین مسلمانوں کے حق میں مغصوب نہیں ہے۔ شاہی قانون نے اپنے قانون کے رو سے اس کو حاصل کیا ہے اور اپنے قانون کے رو سے ہم کو مجاز کیا ہے۔

یہاں یہ سوال زیادہ مفید ہے کہ مسلمانوں کے مذہب کے رو سے مردوں کا دفن کرنا مسلمانوں کا مذہبی کام ہے یا نہیں اور اس کے متعلق کوئی قید بڑھا دینا مذہب میں دست اندازی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو گورنمنٹ کو اپنے معاہدے اور قانون کے رو سے مسلمانوں کے مذہبی کاموں میں دست اندازی کرنے سے بچنا ضرور ہے یا نہیں؟

جواب: دفن کرنا مسلمانوں کے مذہبی کاموں میں نہایت ضروری کام ہے اور اس میں کوئی قید بڑا دینا مذہب میں بہت بڑی دست اندازی ہے۔ عادل گورنمنٹ کو اپنے مسکین رعایا پر مہربانی فرما کر ان کے زندہ اور مردوں کو اس نئے اور نہایت تکلیف رساں قانون سے ضرور بچانا چاہیے۔[1]


[1]                اصلی مجیب کا نام درج نہیں ہے۔ حافظ صاحب وغیرہ کی صرف تصحیح درج ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

كتاب الحظر والاباحة،صفحہ:728

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ