سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(130) بغیر داڑھی والے امام کے پیچھے نماز

  • 22563
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-18
  • مشاہدات : 662

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس شخص کے چہرے پر داڑھی مبارک نہ ہو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے جو لوگ داڑھی مبارک نہیں رکھتے ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ (محمد نصیر احمد، آزاد کشمیر)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان مرد کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے واعفوا اللحى (بخاری وغیرہ)

داڑھی کو معاف کر دو یہ حکم کا صیغہ ہے اور حکم وجوب کے لئے ہوتا ہے یہاں تک کہ کوئی قرینہ ایسا مل جائے جو اسے واجب کے حکم سے نکالتا ہو یہاں کوئی قرینہ موجود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی داڑھی رکھی اور رکھنے کا حکم بھی دیا اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کا حکم مان کر داڑھیاں رکھیں اور ائمہ محدثین کے ہاں داڑھی منڈے شخص کو امام بنانا جائز نہیں کیونکہ وہ اعلانیہ فسق کا مرتکب ہے البتہ اگر اس کا عقیدہ درست ہے اور وہ اس قبیح فعل کا مرتکب ہے کبھی اس نے نماز پڑھائی تو نماز ہو جائے گی کیونکہ فاسق و فاجر کے پیچھے بھی نماز ہو جاتی ہے لیکن ایسے شخص کو مستقل امام بنانا کسی طرح بھی درست نہیں۔ مسئلہ داڑھی کی تفصیل کے لئے دیکھیں سید بدیع الدین شاہ راشدی علیہ الرحمۃ کی کتاب "اسلام میں داڑھی کا مقام"۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب الصلوٰۃ،صفحہ:174

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ