سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(586) عدت گزارنے کی جگہ

  • 2254
  • تاریخ اشاعت : 2012-12-17
  • مشاہدات : 910

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ايک عورت كا خاوند فوت ہوگياہے ،اور وہ كرايہ كے گھر ميں رہتى ہے، اس كے ميكے والے اس کے گھر سے دور رہتے ہیں، اور اس كا بھائى بھى كام كاج كى بنا پر اس كے گھر آ كر نہيں رہ سكتا، اور عورت مكان كا كرايہ بھى ادا نہيں كر سكتى، كيا يہ عورت عدت گزارنے كے ليے ميكے منتقل ہو سكتى ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بيوہ عورت كے ليے اپنے اسى گھر ميں عدت گزارنى واجب ہے جس گھر ميں رہائش ركھے ہوئے اسے خاوند فوت ہونے كى اطلاع ملى تھى، كيونكہ رسول كريمﷺ نے يہى حكم ديا ہے.

" آپﷺ نے فريعہ بنت مالک رضى اللہ تعالى عنہا كو فرمايا تھا:

« امكثي في بيتك الذي جاء فيه نعي زوجك حتى يبلغ الكتاب أجله . قالت : فاعتددت فيه أربعة أشهر وعشرا »(رواه أبو داود (2300) والترمذي (1204) والنسائي (200) وابن ماجه (2031) وصححه الألباني في صحيح ابن ماجه) .

" تم اسى گھر ميں رہو جس گھر ميں تمہيں خاوند فوت ہونے كى اطلاع ملى تھى، حتى كہ عدت ختم ہو جائے. فريعۃ رضى اللہ تعالى عنہا كہتى ہيں: چنانچہ ميں نے اسى گھر ميں چار ماہ دس دن عدت بسر كى تھى۔

"اس حديث پر عمل كرتے ہوئے اكثر اہل علم كا بھى يہى مسلک ہے کہ عورت اپنے اسی گھر میں عدت گزارے گی ،جہاں اسے خاوند کی وفات کی خبر ملی تھی، ليكن انہوں نے يہ اجازت دى ہے كہ اگر كسى عورت كو اپنى جان كا خطرہ ہو يا پھر اس كے پاس اپنى ضروريات پورى كرنے كے ليے كوئى دوسرا شخص نہ ہو اور وہ خود بھى اپنى ضروريات پورى نہ كر سكتى ہو تو كہيں اور عدت گزار سكتى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بيوہ كے ليے اپنے گھر ميں ہى عدت گزارنے كو ضرورى قرار دينے والوں ميں عمر اور عثمان رضى اللہ تعالى عنہما شامل ہيں، اور ابن عمر اور ابن مسعود اور ام سلمہ﷢ سے بھى مروى ہے، اور اما مالک امام ثورى اور امام اوزاعى اور امام ابو حنيفہ اور امام شافعى اور اسحاق﷭ كا بھى يہى قول ہے.

ابن عبد البر﷫ كہتے ہيں:

حجاز شام اور عراق كے فقھاء كرام كى جماعت كا بھى يہى قول ہے "

اس كے بعد لكھتے ہيں:

" چنانچہ اگر بيوہ كو گھر منہدم ہونے يا غرق ہونے يا دشمن وغيرہ كا خطرہ ہو... تو اس كے ليے وہاں سے دوسرى جگہ منتقل ہونا جائز ہے؛ كيونكہ يہ عذر كى حالت ہے۔ اور اسے وہاں سے منتقل ہو كر كہيں بھى رہنے كا حق حاصل ہے " انتہى مختصرا ديكھيں: المغنى ( 8 / 127 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايک عورت كا خاوند فوت ہو گيا ہے اور جس علاقے ميں اس كا خاوند فوت ہوا ہے وہاں اس عورت كى ضرورت پورى كرنے والا كوئى نہيں، كيا وہ دوسرے شہر جا كر عدت گزار سكتى ہے ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر واقعتا ايسا ہے كہ جس شہر اور علاقے ميں خاوند فوت ہوا ہے وہاں اس بيوہ كى ضروريات پورى كرنے والا كوئى نہيں، اور وہ خود بھى اپنى ضروريات پورى نہيں كر سكتى تو اس كے ليے وہاں سے كسى دوسرے علاقے ميں جہاں پر اسے اپنے آپ پر امن ہو اور اس كى ضروريات پورى كرنے والا ہو وہاں منتقل ہونا شرعا جائز ہے " انتہى ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتا ( 20 / 473 ).

دیگر فتاوى جات ميں يہ بھى درج ہے:

" اگر آپ كى بيوہ بہن كو دوران عدت اپنے خاوند كے گھر سے كسى دوسرے گھر ميں ضرورت كى بنا پر منتقل ہونا پڑے مثلا وہاں اسے اكيلے رہنے ميں جان كا خطرہ ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں، وہ دوسرے گھر ميں منتقل ہو كر عدت پورى كريگى " انتہى ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 20 / 473)

لہذا مذکورہ عورت اگر اكيلا رہنے سے ڈرتى ہے، يا پھر گھر كا كرايہ نہيں ادا كر سكتى تو اپنے ميكے جا كر عدت گزارنے ميں كوئى حرج نہيں ہے.

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ