سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(16) قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کا حکم

  • 2178
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-24
  • مشاہدات : 949

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا سوال یہ ہے کہ وتر کے وقت جب قنوت پڑھی جاتی ہے تو اکثر امام دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاتے ہیں اور مقتدی بھی ہاتھ اُٹھا تے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔لیکن راجح مسلک یہ کہ قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے قنوت وتر میں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب ہے۔ قنوت نازلہ کے حوالے سے ثابت ہے کہ نبی کریم نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی تھی۔ سیدنا انس فرماتے ہیں:

’’فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الغداة رفع ‏يديه فدعا عليهم‘‘ (مسند أحمد [19 /394] ط. الرسالة)

میں نے نماز فجر میں نبی کریمﷺ کو ہاتھ اٹھا کر ان پر بد دعا کرتے ہوئے دیکھا

سیدنا عمر بن خطاب ،سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ہریرہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ وہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔اور صحابہ کرام کا یہ عمل ان اپنا نہیں ہو سکتا ۔بلکہ ضرور انہوں نے نبی کریم ﷺکو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔

اگرچہ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کے بارے میں کوئی صریح روایت ثابت نہیں ہے ،لیکن قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے ہم قنوت وتر میں بھی ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ صالح العثیمین اور شیخ ابن باز کا بھی یہی موقف ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ