سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(532) شادی سے قبل مرد کا کہنا اگر عورت نے شادی کے بعد ایسا کہا تو اس کو طلاق

  • 19380
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-24
  • مشاہدات : 314

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمدللہ میں ایک شادی شدہ نوجوان ہوں لیکن میری شادی سے چوبیس گھنٹے سے کچھ کم پہلے میرے اور دلہن کے گھر والوں کے درمیان بعض چغل خوروں اور حاسدوں کی وجہ سے سخت اختلاف ہوگیا جس نے مجھے شدید غصہ دلایا،اور شادی سے قبل بیوی کے متعلق مجھ سے ایک غلطی کروادی وہ اس طرح کہ میں نے منگیتر کا قصد وارادہ کرکے ایک جملہ بولا جبکہ ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی:اگر اس نے شادی کے بعد یہ کام کیا تو اس کو طلاق ہوگی۔شادی ہوجانے کے بعدہمارے درمیان بہت سی مفاہمت پیدا ہوگئی اور موافقت اس حد تک بڑھ گئی کہ میں نے خود ہی اس کو وہ کام کرنے کی اجازت دے دی۔کیا اس سے طلاق پڑ  جائے گی یا نہیں؟اور مجھ پر اس سلسلے میں کیا واجب ہوگا؟معلوم رہے کہ میری بیوی اس موضوع کے متعلق اور جو کچھ میں نے اسکے متعلق شادی سے  پہلے کہا،کچھ نہیں جانتی تھی بلکہ میں اس کو خبر دینے سے ہمیشہ ڈرتا ہی رہتا ہوں،کبھی ایسا نہ ہو کہ ہماری ازدواجی زندگی میں تلخیاں پیدا ہوجائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ تم نے جو ذکر کیا کہ تم نے جوطلاق کو معلق کیا(یعنی) اس عورت کی طلاق کو بعض کاموں میں سے کسی کام کے کرنے کے ساتھ معلق کیا تو اس کا کوئی اثر نہیں ہے کیونکہ ایسا عقد نکاح سے پہلے ہوا جبکہ طلاق عقد کے بعد ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَإِن طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ وَقَد فَرَضتُم لَهُنَّ فَريضَةً فَنِصفُ ما فَرَضتُم إِلّا أَن يَعفونَ أَو يَعفُوَا۟ الَّذى بِيَدِهِ عُقدَةُ النِّكاحِ وَأَن تَعفوا أَقرَبُ لِلتَّقوىٰ وَلا تَنسَوُا الفَضلَ بَينَكُم إِنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿٢٣٧﴾... سورةالبقرة

"اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کردیا ہو تو مقرره مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وه خود معاف کردیں یا وه شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گره ہے تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے"

پس اللہ نے نکاح کے بعد طلاق  رکھی ہے،اور اس لیے بھی کہ طلاق گرہ کے کھولنے کا نام ہے،اور گرہ کا کھلنا گرہ کے لگنے کے بعدہی متصور ہوتاہے۔اس بنا پر تیری بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی اگرچہ اس نے وہ کام کیا جس کام کے ساتھ آپ نے طلاق کو معلق کیا تھا۔لیکن تم پر اس طرح کے عمل کی وجہ سے قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔

اور یہ اس لیے کہ قسم بیوی کے علاوہ پر بھی منعقد ہوجاتی ہے۔جب اس نے وہ کام کیا جس کے کرنے پر تم نے طلاق دینے کی قسم کھائی تھی تو اس سے تجھ پر کفارہ قسم لازم ہوگا،اور قسم کا کفارہ یہ ہے:دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے  پہنانا یا ایک گردن کا آزاد کرانا اور اگر اس کی طاقت نہ ہوتوتین دن کے مسلسل روزرے رکھنا۔

کھانا کھلانے کا طریقہ یہ ہے کہ یا تو آپ صبح یا شام کا کھانا تیار کرکے ان دس مسکینوں کوبلا کر کھانا کھلادیں یا ان کو چاول وغیرہ کھلادیں،ان کی مقدار چھ کلو ہو اور اس کےساتھ گوشت بھی ہو جس کاسالن بن سکتاہو۔رہا لباس تو ان میں سے ہر ایک کو عادت کے مطابق ثوب،پاجامہ اور غترہ یا اس جیسی کوئی اور چیز دے۔کیونکہ اللہ نے مطلق"کسوۃ" کاذکرکیاہے لہذا اس معاملے میں عرف عام کی طرف رجوع کیا جائے گا،رہا  گردن آزاد کرنا توایک مملوک غلام کو،خواہ مذکر ہو یا مونث ،آزاد کرنا ہے۔اگر تمہارے پاس اس کی طاقت نہ ہو۔یعنی اتنا مال نہ ہوکہ جس سے کھانا کھلا کو یاکپڑے  پہنا سکو یا گردن آزاد کراسکوتو اس صورت میں تم پر لازم ہے کہ تین دن کے مسلسل روزے رکھو۔

اور آخر پر اے میرے بھائی! میں تم کو اور دوسروں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ طلاق دینے اور اس کو زبان پر لانے میں تساہل کا مظاہرہ نہ کیا کرو کیونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے حتیٰ کہ اہل علم کہتے ہیں:جب مرد اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو نے ایسا کیا تو تم کو طلاق،پھر اگر اس کی بیوی نے ویسے کیا تو اسے طلاق ہوجائے گی،لہذا عقلمند کو چاہیے کہ وہ ان امور میں عجلت سے کام نہ لیا کرے بلکہ صبر کرے اور غور فکرکرے۔اگر وہ اپنی بیوی کو اس عمل سے باز رکھنا چاہتا ہے تو اس کو"اگر تم نے ایسا کام کیا تو تم کو طلاق"کہنے کی بجائے:کوئی دوسرا  ذریعہ اختیار کرے۔واللہ المستعان)(فضیلۃا لشیخ محمد بن صالح العثمین  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 478

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ