سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1061) محکمہ جاتی تحقیق کے سلسلے میں عورت کا گواہ بننا

  • 18668
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-22
  • مشاہدات : 189

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی نے بفضلہ تعالیٰ سکول میں تدریس چھوڑ دی ہے اور اب وہ گھر داری میں لگ گئی ہے، لیکن ہوا یہ کہ ایک محکمہ جاتی تحقیق کے سلسلے میں اسے ایک گواہی کے لیے طلب کیا گیا جو مدیر کے خلاف تھی، کہ اس کا اخلاق کیسا ہے، تو بیوی نے اللہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اچھے اخلاق کا مالک ہے۔ چونکہ یہ ان معاملات میں نئی تھی اس لیے اس طرح سے کہہ دیا، حالانکہ وہ مدیر فی الواقع کوئی اچھے اخلاق و کردار کا مالک نہیں ہے۔ تو اس گواہی کا کیا حکم ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسے چاہئے کہ کثرت سے استغفار کرے اور اللہ عزوجل سے معافی مانگے اور دیگر اعمال صالحہ کثرت سے کرنے کی کوشش کرے، اور آپ بھی اس کے لیے دعا کریں اور اس کے علاوہ اس کے ذمے کچھ نہیں ہے۔ (محمد بن عبدالمقصود)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 745

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ