سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(251) ورثاء میں تین لڑکے اور ایک لڑکی ؟

  • 17577
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-25
  • مشاہدات : 145

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ:

1۔شیخ عبدالرحیم نے بگذاشت تین لڑکے (شیخ زین العابدین، شیخ شفیع احمد،شیخ محمد ادریس)اور ایک لڑکی (بی بی حنیفہ)کے انتقال کے بعدہ،تینوں لڑکوں کو کل جائداد برابرا بحصہ مساوی تقسیم کرلیا اور بی بی حنیفہ اپنی ہمشیرہ کو کچھ نہیں دیا۔

2۔شیخ زین العابدین یکے از پسران شیخ عبدالرحیم مذکورہ نے اپنے کل حصہ کے متعلق (باستثنائے اراضی مع۔۔۔)عرصہ کے بعد بحالت مرض اس مضمون کی دستاویز تعمیل کرکے۔۔۔۔۔۔اولاد زکور وفات پائی،کہ تاحیات اپنے جائداد کا پورا تصرف و منافع کا حق خود اپنی ذات کو حاصل ہوگا اور بعد ممات اگر کوئی اولاد میں موجود ہو تو وہ کل جائداد کی وارث ہوگی،ورنہ میری زوجہ تاحیات خود اس کے محاصل و منافع بے بہرہ اندوز ہوتی رہے گی۔اور زوجہ مذکور کے انتقال کے بعد کل جائداد موقوف متصور ہوگی اور اس کے مصارف حسب ذیل چار شعبے ہوں گے۔

1۔سولہ آنے میں نصف یعنی:آٹھ آنے مدارس اہل حدیث دربھنگہ ،مظفر پور،چمپارن۔

2۔مسجد و عید گاہ چار آنے۔ 3۔امداد بیوگان بستی۔    4۔دوآنے حق المحنت و اجرت متولی۔

3۔چوں کہ شیخ زین العابدین نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ اس لئے بعد ازوفات ان کے ان کی بیوی حسب منشاء دستاویز مذکور جائداد پر قابض ہوتی رہی۔

4۔اب بی بی حنیفہ دختر شیخ عبدالرحیم مورث اعلی مذکور،اپنے پدری متروکہ کا مطالبہ ،اپنے بھائی شیخ زین العابدین کی بیوی،جس کے تحت و تصرف میں بذریعہ دستاویز مذکور کل جائیداد سے کرتی ہے۔

مذکورہ بالا حقائق کے اظہار کرنے کے بعد حسب ذیل سوالات جواب طلب ہیں۔برائے نوازش بربنائے شریعت طمانیت بخش جواب دے کر مشکور فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔

1۔بی بی حنیفہ کا مطالبہ نسبت متروکہ پدری شیخ زین العابدین کی بیوی سے حق بجانب ہے یا نہیں؟

2۔اگر مطالبہ مذکور حق بجانب ہے اور وہ دے دیا جائے تو اس حالت میں بقیہ جائداد موقوفہ کے متعلق شرعا کیا حکم ہے؟

3۔شیخ زین العابدین کی بیوی کے قبضہ میں رہے گی یا واقف کے موجودہ ورثاء پر تقسیم ہوگی؟۔     


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: (1) بی بی حنیفہ کا مطالبہ اپنے بھائیوں سے یا ان کے ورثاء سے حق بجانب ہے۔چوں کہ بی بی حنیفہ کا حصہ اس کے بھائی یا ورثاء کے ذمہ ہے۔لقولہ تعالیٰ

ج: (2) بقیہ جائداد موقوفہ کا ثلث یعنی:ایک تہائی پر حسب تحریر واقف بیوی کا قبضہ رہے گا،اور اس کے منافع حسب تحریر واقف صرف ہوں گے۔باقی کل تہائی ورثاء پر تقسیم ہوگی۔

بے شک بی بی حنیفہ کا نسبت متروکہ پدری تینوں بھائیوں یا ان کے ورثہ سے یکساں حق بجانب ہے ،وہ اپنے بھائی شیخ زین العابدین کی بیوی سے زین العابدین کے حصہ کے ساتواں حصہ (اپنا ترکہ پدری)وصول کرسکتی ہے،اور اسی قدر دونوں بھائیوں شفیع احمد و محمد ادریس یا ان کے ورثہ سے۔

زین العابدین کی متروکہ جائداد سے جو اس کو اپنے باپ عبدالرحیم سے وراثت ترکہ میں ملی ہے۔بی بی حنیفہ کا مطالبہ نسبت پدری پورا کرنے کے بعد،اس جائداد کا صرف ایک ثلث وقف ہوگا۔جس پر اس کی بیوہ بحیثیت متولی کے قابض رہے گی،بقیہ دو ثلث واقف کے ورثہ بیوہ،دونوں بھائی شفیع احمد،محمد ادریس،بہن بی بی حنیفہ پر بھی شرعی تقسیم ہوگا۔

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الفرائض والہبۃ

صفحہ نمبر 459

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ