سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(90)بالغ كا غير بالغ سے نکاح

  • 14875
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-28
  • مشاہدات : 704

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک لڑکی دوتین سالوں سےبالغ ہے کیا ان کا نکاح ایک ایسے لڑکے سےکرناصحیح ہے جوابھی سات یاآٹھ سال کاہو۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ نکاح درست ہوسکتا ہے اس شرط پرکہ وہ لڑکی اس نکاح پرراضی ہوورنہ نہیں ہوگا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کانکاح بچپن میں ہواوہ بحال ہوگیا اوردونوں صورتوں  میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ جب عورت کاصغرسنی میں نکاح درست ہوسکتا ہے حالانکہ وہ بلوغت بعدبھی ناقصات عقل ہے توپھرچھوٹے مردکانکاح کیونکردرست نہیں ہوگاکیونکہ مردمیں توعقل جلدی  آجاتی ہے اوربلوغت پرکامل عقل پیداہوجاتی ہے باقی عورت کی رضا شرط ہے وہ اپنی خوشی سےراضی نہ ہوتوہرگزنکاح درست نہیں ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 432

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ