سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا

  • 13443
  • تاریخ اشاعت : 2014-10-26
  • مشاہدات : 473

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز باجماعت  کے بعد ہاتھ  اٹھا کر دعا کرنا  اجتماعی  طور پر  ثابت  ہے  یا نہیں ؟ اگر  کسی وقت کرلی  جائے  اور کبھی  نہ کی جائے  تو کیا  یہ جائز ہے یا نہیں؟ کون سا طریقہ  صحیح  ہے۔اگر کوئی کرنے  والوں  کے ساتھ  دعا نہ کرے تو  گناہ  گار تو نہیں ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز باجماعت  کے بعد امام اور مقتدیوں کا ہاتھ  اٹھا کر  اجتماعی  دعا کرنا ثابت  نہیں ہے ،اس بات  کی صراحت  حافظ  ابن تیمیہ،حافظ   ابن قیم ؒ نے فرمایا :

"واما الدعاء  بعد السلام  من الصلوة  مستقبل  القبلة  اولما مومين  فلم يكن ذلك  من هديه  صلي الله عليه وسلم  اصلا ولاروي  عنه باسناد صحيح  ولاحسن "

نماز  کے اختتام   پر سلام  کے بعد قبلہ رخ  ہوکر  یا مقتدیوں   کی طرف  چہرہ  کرکے  دعا کرنا  نبی کریم ﷺ سے اصلا  ثابت نہیں ہے۔ یہ بات کسی صحیح  اور حسن  سند   بھی مروی نہیں  ہے ۔

( زاد  المعاوج  ج1ص257 طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

 جب ایک بات  صراحتاً ثابت ہی نہیں  ہے  اور سلف صالحین سے  اس  پر نکیر  بھی ثابت  ہے تو  بعض  عمومی دلائل کی رو سے  اس پر خواہ مخواہ  زور دینا  اور اجتماعی  دعا نہ کرنے والوں پر  فتویٰ لگانا  انتہائی  غلط  اور مذموم حرکت ہے۔

 بعض  لوگ فرض  نماز کے بعد انفرادی   دعا میں  رفع یدین کے بارے میں  چند روایات پیش کرتے ہیں :

1)     وعن  محمد  بن ابي يحيي  الاسلمي  قال: رايت  عبدالله بن الزبير وراي  رجلا رافعا يديه  يدعوا  قبل  ان يفزع  من صلوته ّ فلما  فرغ  منها  قال: ان رسول الله  صلي الله عليه وسلم  لم  يكن  يرفع يديه  حتي  يفرغ من صلوتهّ

 (تحفة الاحوذي  ج١ص 245 ومجمع  الزوائد  ج10ص 169، والفظ لہ  بحوالہ  طبرانی  وقال: رجالہ  ثقات)

اس روایت کا خلاصہ   یہ ہے کہ  رسول اللہﷺ نماز  کے بعد  ہاتھ اٹھا کر دعا فرماتے تھے ۔

تحقیق: اس روایت  کی مکمل  سند المعجم  للطبرانی  کے مطبوعہ   نسخہ  سے  غائب  ہے  لیکن  حافظ  ابن کثیر ؒ   نے اس روایت  کی سند کو ہمارے  لیے  مخفوظ  کرلیا ہے ۔ والحمدللہ

 فرماتے ہیں : رواه  الطبراني  عن سليمان  بن الحسن  العطار عن ابي  كامل  الجحدري  عن  الفضل  (!) بن سليمان  عنه  به"

 یعنی   میں  یہ روایت  المعجم الکبیر للطبرانی (ج 13۔14 ص 92ح324) میں مل گئی  ہے اس کا راوی  الفضل  بن سلیمان  النمیری  جمہور محدثین کے نزدیک  ضعیف راوی  ہے ۔صحیحین  میں اس کی تمام  روایات  شواہد  ومتابعات کی وجہ سے  صحیح ہیں  لیکن یہ  روایت  شاہد یا متابع  نہ ہونے  کی وجہ سے  ضعیف ہے ۔ دیکھئے  السلسلۃ الضعیفہ  للالبانی (6/56 ح 2544)

لہذا یہ سند  ضعیف  ہے ۔ نیز دیکھئے میری کتاب ہدیۃالمسلمین  حدیث: 22)

2)     عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلاَةُ مَثْنَى مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَخَشَّعُ، وَتَضَرَّعُ، وَتَمَسْكَنُ، وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ، يَقُولُ: تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ، مُسْتَقْبِلاً بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ، ( سنن  ترمذی  مع تحفة الاحوذی  ج1ص299ح385)

اس کا راوی  عبداللہ بن نافع بن العمیاء مجہول ہے جیسا کہ  تقریب التہذیب  (3658) اور تحفۃ  الاحوذی  میں لکھا ہوا ہے ۔

امام بخاری نے فرمایا: "لم يصح حديثه" اس کی حدیث صحیح  نہیں ہے ۔(التاریخ  الکبیر  5/213)

امام ابن خزیمہ  نے بھی  اس روایت کے ثابت  ہونے میں  شک کیاہے ۔(صحیح  ابن خزیمہ  ج2ص221)

صحیح  ابن حبان  میں مجھے  یہ روایت  نہیں ملی  اور نہ  امام ترمذی  نے اسے صحیح کہا ہے ۔واللہ اعلم  

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت ضعیف  ومردود  ہے۔

3)    عن ابي  هريرة ان رسول الله صلي الله عليه وسلم  رفع يديه بعد  ماسلم وهو مستقبل  القبلة۔۔۔الخ

( تفسیر  ابن کثیر ج1ص 542 تفسیر سورۃ النساء آیت  :98 بحوالہ  ابن ابی  حاتم  وتحفۃ  الاحوذی  ج1ص 245)

 اس روایت  کا خلاصہ  یہ ہے کہ  رسول اللہﷺ نے سلام  کے بعد قبلہ رخ  ہوکر  ہاتھ  اٹھا  کر دعا فرمائی تھی ۔اس روایت  کا ایک  راوی  علی بن  زید  بن جدعان  ہے جسے  جمہور محدثین  نے ضعیف  قراردیا ہے ۔حافظ ابن حجر  فرماتے  ہیں:" ضعيف" (التقريب  التهذيب :٤٧٣٤)

صحیح مسلم میں  اس کی روایت  ثابت  البنانی  (ثقہ ) کی  متابعت  میں ہے ۔حافظ  المزی  فرماتے ہیں :" روي  له البخاري  في الادب  (المفرد وهو غير  الصحيح ) ومسلم  مقرونا بثابت  البناني والباقون " (تہذیب الکمال  ج 13ص 275)

4)     عن الاسود  العامري  عن ابيه  قال: صليت  مع النبي صلي الله عليه وسلم  الفجر فلما  سلم  انحرف ورفع يديه ودعا "( فتاوی نذیریه  ج 1ص566 بحواله  مصنف  ابن ابی شیبه )

یہ روایت  مصنف  ابن ابی شیبہ  میں مجھے  نہیں ملی  اور  مجھے نہیں ملی  اور نہ کسی  دوسری کتاب  میں سنداًومتناً ملی ہے۔مصنف  ابن ابی شیبہ  (ج 1ص 302) میں  جو روایت  ہے وہ"انحرف " پر ختم  ہے۔

اس میں" ورفع يديه ودعا کے الفاظ  نہیں  ہیں۔ یہ الفاظ  کسی ناقل  کا وہم  ہیں  جنھیں   فتاویٰ نذیریہ  میں سھواً نقل  کردیا گیا ہے ،خلاصہ  یہ ہے کہ  انفرادی  دعا بعد از فرائض میں ہاتھ  اٹھانے  والی  روایات  بھی سندا ضعیف ہیں ۔ یہاں  بطور  تنبیہ  عرض  ہ کہ نماز کے بعد مختلف  اذکار اور دعائیں  آپ ﷺ سے بطریق تواتر  ثابت ہیں ۔اسی  طرح  دعا میں ہاتھ اٹھانا بھی  متواتر ہے ۔مالک   بن یسار السکونی  ؒ فرماتے  ہیں  کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا  «اذا سالتم  الله فسلوه  ببطون  اكفكم  ولاتسالوه  بظهورها»

اگر تم  اللہ سے (دعا) کرو  تو ہتھیلیاں  اوپر  کرکے  یعنی  سیدھے  ہاتھوں  سے مانگو ہتھیلیوں  کی پشت اوپر  کرکے نہ مانگو۔( سنن  ابی  داود الصلوۃ  باب الدعاح 1486، وسندہ  حسن  ولہ  شاہد  عند الطبرانی  وقال  الہیثمی   فی  مجمع  الزوائد 10/169 ورجالہ رجال  الصحیح  غیر  عمار  بن خالد الواسطی  وھو  ثقہ )

اس مفہوم  کی دوسری روایات بھی ہیں۔

  حبیب  بن مسلمہ  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«لايجتمع ملاء فيدعوا بعضهم  ويؤمن  البعض  الا اجابهم الله»

( مسلمانوں کا ) کوئی گروہ اگر جمع  ہواور بعض ان کا  دعا کرے دوسرا آمین کہے  تو اللہ تعالیٰ ان کی  دعا قبول کرلیتا ہے ۔ (المستدرک  للحاکم  ج 3ص 347 ح 5478 ،مجمع الزوائد ج10  170بحوالہ الطبرانی  وھدانی  فی المعجم الکبیر ج4 ص 21،22ح35 35،3536 ابن عساکر  13/54)

اس روایت  کی سند منقطع ہونے کی  وجہ سے ضعیف  ہے  ۔ عبداللہ بن ہبیرہ  کی سیدنا حبیب بن مسلمہ  رضی اللہ عنہ  سے ملاقات  ثابت نہیں  ہے سیدنا حبیب  رضی اللہ عنہ  42 ہجری میں  فوت ہوئے ۔ دیکھئے  تقریب التہذیب  (1106) جبکہ عبداللہ  بن ہبیرہ  41 ہجری  میں پیدا ہوئے تھے ۔ دیکھئے  تقریب التہذیب (3674)

 مختصرا غرض  ہے کہ فرائض  ونوافل کے بعد امام اور مقتدیوں  کا اجتماعی  دعا  کرنا  ثابت  نہیں ہے  ،ہاتھ  اٹھانے  کی صراحت  کے ساتھ انفرادی  دعا والی روایات بھی غیر  ثابت ہیں  مجوزین  حضرات عمومی  دائل  اور بعض  غیر  ثابت  روایات سے استدلال کرتے  ہیں، راجح  یہی ہے کہ  کبھی کبھار  کسی کی  درخواست  پر مانگ لیں  تو جائز ہے ۔

یہی حکم  نماز جمعہ  یا جلسہ   واجتماع  کے بعد والی  دعا کا ہے ۔

دعا کے بعد منہ پر ہاتھ  پھیرنا  دو صحابیوں ۔ سیدنا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  اور سیدنا  عبداللہ بن الزبیر  رضی اللہ عنہ  سے ثابت ہے۔(الادب  المفرد للبخاری باب 276 ح 609 وسندہ  حسن ۔ ہدایۃ المسلمین الراقم  الحروف 45،دوسرا نسخہ  ص 58) لہذا اس  عمل  کو جاہلوں  کا کام بتانا صحیح نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص463

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ