سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(482) دعا میں ہاتھ اوپر اٹھانے کی مقدار اور چہرے پر ملنا

  • 1286
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-20
  • مشاہدات : 1220

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دعا میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں اور اختتام دعا چہرے پر ہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا آپﷺ سے ثابت ہے او راٹھانے کی مقدار اور کیفیت جو احادیث اور آثار میں وارد ہوئی ہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

حضرت انس﷜ فرماتے ہیں کہ نماز استسقاء میں آپﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپﷺ کے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔( صحیح بخاری:1029)

اسی طرح دوسری روایت میں ہے:

عمر مولی ابی اللحم فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو نماز استسقاء میں کھڑےہوکر دعا مانگتے دیکھا۔

یستسقی رافعا یدیہ قبل وجھہ لا یجاوز بھما رأسہ(سنن ابوداؤد:1168)

’’وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے کے برابر اٹھا کر بارش کی دعا اس طرح کررہے تھے کہ ان کے ہاتھ سر سے تجاوز نہیں کررہے تھے۔‘‘

مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ کے دعا میں ہاتھ اٹھانے کی کیفیت یہ تھی کہ آپﷺ ہاتھوں کو اس قدر اونچا کرلیتے کہ آپﷺ کے بغلوں کے بال دکھائی دیتے اور یا پھر اس قدر اٹھاتے کہ سر سے اوپر نہ جاتے۔ بہرحال دعا میں ہاتھ جس طرح بھی اٹھا لیے جائیں مستحب ہے اور ہاتھ اٹھانا خشوع کی علامت ہے۔ اسی طرح دعا کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنا نبیﷺ سے کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ البتہ ابن عمرؓ او رابن زبیرؓ سے یہ اثر وارد ہے کہ وہ دونوں دعا کرتے اور دعا کے بعد اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے کی طرف گھما لیتے۔ (الأدب المفرد:609)

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ