سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(289) عدت کہاں گزارے؟

  • 12280
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 1069

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اپنی بیوی کو ایسے آشیانہ میں چھوڑکر سفر آخرت پر روانہ ہوا جہاں عزت و آبرو اور جانی تحفظ نہیں ہے۔ اس کا ذاتی مکان یا ترکہ بھی نہیں، کیا اس کی بیوی اس پر وحشت ماحول اور اجنبی گردوپیش میں عدت کے ایام گزارے یا اپنے والدین کے ہاں عدت گزارنے کی اجازت ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ، حدیث کی روشنی میں اسے درج ذیل امور کی پابندی کرنا ضروری ہے:

٭جس گھر میں خاوند کی وفات  کے وقت رہائش پذیر ہووہیں چار ماہ دس دن گزارنا یا حمل کی صورت میں وضع حمل تک وہاں رہنا ضروری ہے۔ اس گھر سے بلاوجہ باہر رہنا جائز نہیں ہے۔

٭اسے خوبصورت لباس پہننے کی بھی اجازت نہیں ہےبلکہ سادہ لباس زیب تن کر کے یہ دن گزارے جائیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔

٭دوران عدت سونے چاندی اور ہیرے جواہرات وغیر ہ کے زیورات بھی نہیں پہننا چاہیے، یعنی ہار،کنگن اور انگوٹھی وغیرہ  انہیں زیورات میں شامل  کیاجاتاہے لہٰذا ان کے استعمال سے اجتناب کرے۔

٭خوشبو اور دیگر عطریات کے استعمال سے بھی پرہیز کرے لیکن حیض سے فراغت کے بعد بودور کرنے کےلئے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔

٭سرمہ اور پاؤڈر وغیرہ جو کہ چہرے کی زیبائش کے لئے استعمال کیاجاتا ہے، انہیں بھی استعمال  نہ کیا جائے، البتہ غسل کرتے وقت صابن استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے علاوہ کچھ پابندیاں خود ساختہ ہیں، مثلا:کسی سےبات چیت نہ کرنا ، ہفتہ میں صرف ایک بار غسل کرنا ، گھر میں ننگے پاؤں چلنا یہ سب خرافات ہیں۔ا گر حالات سازگار ہوں تو بیوہ کا اس مکان میں عدت کے ایام پورا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ اس کی ملکیت نہ ہو، جیسا کہ حضرت فریعہ ؓ کا بیان ہے کہ اس کا خاوند اپنے بھاگے ہوئے نئےغلاموں کی تلاش میں نکلا تھا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے میکے جانے کےمتعلق دریافت کیا کیونکہ میرے خاوند نےا پنا ذاتی مکان یا نفقہ نہیں چھوڑا تھا۔ آپ نے اجازت دیدی۔ جب واپس جانے لگی تو آپ نے مجھے آواز دی اور فرمایا:‘‘تم اپنے پہلے مکان میں ہی رہو حتی کہ تمہاری عدت پوری ہوجائے۔’’چنانچہ میں نے عدت کے ایام اسی سابقہ مکان میں ہی بسر کئے۔  (ابوداؤد،طلاق:۲۳۰۰)

اس حدیث کی روشنی میں بیوہ کو اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارنی چاہیے لیکن بعض اوقات عدت گزارنے والی عورت میں یا اس گھر کے متعلق کوئی اضطراری حالت پیدا ہوجاتی ہے: مثلاً : جان و مال کا خوف،عزت و آبرو کا ڈر، مکان کا انہدام، گردوپیش میں فاسق ، فاجر لوگوں کا رہنا جہاں اس کی جان، عزت ، آبرو کو خطرہ لاحق ہوتو ایسے حالات میں وہاں سے منتقل ہوناجائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ دوسری رہائش میں منتقل ہو کروہ ان احکام کی پا بندی کرے جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر واقعی ایسے ہی حالات ہیں، جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے تو بیوہ کو اپنے والدین کے ہاں ایام عدت گزارنے کی اجازت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘اللہ کسی کو طاقت سے بڑھ کر زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے۔’’   (۲/البقرہ:۲۸۶)

ایسے حالات میں بیوہ کا اپنے خاوند کے گھر قیام رکھنا اسے مشقت میں ڈالنا ہے ، تاہم بہتر ہے کہ اس کی والدہ یا بھائی یا کوئی اور محرم بیوہ کے ساتھ خاوندکے گھر میں رہائش رکھ لے تاکہ نصوص کی خلاف ورزی نہ ہو اگر ایسا ممکن نہ ہو تواسے وہاں سے اپنے میکے منتقل ہونے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ محقق ابن قدامہ نے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے۔  (مغنی ابن قدامہ۱۱/۳۹۳)

عرب شیوخ نے بھی ایسے حالات میں بیوہ کو اپنے خاوند کے گھر سے باہر عدت کے ایام پورے کرنے کی اجازت دی ہے۔(فتاویٰ نکاح و طلاق،۴۷۴) (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:304

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ