سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(34) تبرک کےلیے گاڑی وغیرہ میں قرآن مجید رکھنا

  • 11822
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-20
  • مشاہدات : 784

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ گھروں کے کمروں ہوٹلوں اور دفتروں وغیرہ میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ لکھ کر لٹکا دیتے ہیں اس طرح ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں وغیرہ میں آیت

﴿وَإِذا مَرِ‌ضتُ فَهُوَ يَشفينِ ﴿٨٠﴾... سورة الشعراء" لکھ کرلٹکادی جاتی ہے‘ تو سوال یہ ہےکہ کیا اس طرح آیات کا لکھ کرلٹکانابھی ان تعویذات کےقبیل سے ہے جوشرعا ممنوع ہیں؟یاد رہے!لوگوں کااس سے مقصودبرکتوں کا حصول اور شیطانوں کو دفع کنا ہوتا ہےنیز اس مقصود بھولنے والے کویاد دہانی اورغافل کوتنبیہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ اور کیا برکت کی نیت سے گاڑی میں قرآن مجید رکھنا بھی تعویز کےقبیل سےہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر اس سے مقصود لوگوں کویادہانی کرانا اور ایسے امور کی تعلیم دینا ہے جو ان کےلیے منفعت بخش ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس سے مقصود شیطانوں اور جنوں سے محفوظ رہن ہوتو مجھے اس کی کوئی اصل معلوم نہیں اسی طرح برکت کےلیے گاڑی وغیرہ میں قرآن مجید رکھنے کی اصل ہے اورنہ یہ مشروع ہے۔اور اگر گاڑی میں قرآن مجید اس لیے رکھا جائے کہ اسے بعض  اوقات پڑھ لیاجائے یا بعض دیگر سوار اسے پڑھ لیں تو یہ ایک اچھی بات ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص41

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ