سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(640) مخفی عادت اورغسل نہ کرنا

  • 11017
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-08
  • مشاہدات : 734

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اٹھارہ سال کا ایک نوجوان ہوں ۔ میں تین سال سے مخفی عادت (مشت زنی) میں مبتلا ہوں کہ اس میں مجھےلذت محسوس ہوتی ہے ۔ لیکن اکثر و بیشتر مجھے اس سے ندامت ہوتی ہے اور ضمیر ملامت کرتاہے۔ اس بری عادت کے بعد میں کبھی تو غسل کرلیتاہوں او رکبھی غسل بھی نہیں کرتا خصوصا موسم سرما میں جب سردی زیادہ ہوتی ہے میں غسل نہیں کرتا اور اب یاد نہیں کہ غسل کے بغیر میں نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں ۔ رمضان 1402 ھ میں دن کے وقت روزے کی حالت میں بھی یہ کام کرتارہاہوں ۔ کیا اس سے نماز اور روزے پر کوئی اثر پڑے گا ؟ کیا منی پاک ہے ؟ میں نےایک حدیث سنی ہے، جسمیں  یہ ہےکہ رسول اللہﷺ نماز فجر ادا فرمارہےتھےاور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاآپ کےکپڑے سےمادہ منویہ کھرچ رہی تھیں؟ براہ کرم میری راہنمائی فرمائیں، اللہ تعالی آپ کو توفیق عطا فرمائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مخفی عادت یعنی مشت زنی انتہائی بدترین عادت ہے ۔ اہل علم نے اسے حرام قرار دیا اوراس کی حرمت پر حسب ذیل ارشاد باری تعالی سے استدلال کیا ہے:

﴿وَالَّذينَ هُم لِفُر‌وجِهِم حـٰفِظونَ ﴿٥ إِلّا عَلىٰ أَزو‌ٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ‌ مَلومينَ ﴿٦ فَمَنِ ابتَغىٰ وَر‌اءَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ العادونَ ﴿٧﴾... سورةالمؤمنون

’’اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کا ملک ہوتی ہں کہ (ان سے مباشرت کرنے سے) انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں تو وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی) حدسے نکل جانے والے ہیں۔‘‘

اس عادت میں مبتلا انسان کو بہت سےنقصانات کاسامنا کرناپڑتاہے لہذا  آپ کے لیے واجب ہےکہ اللہ تعالی کے سامنے اس عادت سے توبہ کریں او رآئندہ اس سےاجتناب کریں ۔ رمضان کے جن دنوں میں اس خبیث عادت کےمطابق عمل کیا تو ان دونوں کے روزوں کی قضاء دیں نیز ان نمازوں کی بھی قضاء دیں  جنہیں غسل جنابت کے بغیر پڑھا تھا اور اگر ان نمازوں او رروزوںکی صحیح صحیح تعداد یاد نہ ہو تو ظن غالب مطابق قضاء دینا کافی ہو گا ۔ جہاں تک منی کا تعلق ہے تو وہ  علماء کے صحیح قول کےمطابق پاک ہے۔ کیڑے کو لگ جائے تو مستحب یہ ہے اسے دھوکر یاکھرچ کر اس کے نشان کو زائل کردیا جائے البتہ اسےدھوناافضل ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص486

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ