سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جب امام غلط قرات کرتا ہو

  • 10527
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-10
  • مشاہدات : 347

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب امام سو ر ۃ فا تحہ پڑ ھنے میں غلطی کر تا ہو تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑ ھنے وا لے مقتدیوں کی نماز با طل ہو جا ئے گی ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب امام فا تحہ کی قرات میں کو ئی غلطی کر ے جس سے معنی بدل جا تے ہو ں تو اسے متنبہ کر نا اور غلطی کی تصحیح کر نا ضروری ہے اگر وہ قرات کو صحیح کر لے تو الحمد و گر نہ اس کی اقتدا ء میں نماز جا ئز ہو گی اور انتظا میہ پر وا جب ہو گا کہ ایسے امام کو معزو ل کر دیا جا ئے وہ غلطی جس سے معنی میں تبدیلی آ جا تی ہو کی مثا ل یہ ہے کہ  جیسے ۔

أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں تا پر کسرہ یا ضمہ پڑ ھ لیا جا ئے یا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُمیں ک پر کسرہ پڑھ لیا جا ئے اور قر ا ت کی وہ غلطی جس سے معنی میں کوئی تبد یلی نہیں آتی اس کی مثا ل یہ ہے کہ جیسے " رَبِّ الْعَالَمِينَ " الرَّحْمَـٰنِ "کو فتحہ یا ضمہ کے سا تھ پڑھ لیا جا ئے تو اس سے نما ز میں کو ئی خلل نہیں پڑ تا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص510

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ