سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

رات کو سوتے وقت سورۃ الملک اور سورۃ السجدہ پڑھنا

  • 10220
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-25
  • مشاہدات : 1931

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا سورۃ الملک اور سورۃ السجدہ رات کو پڑھ کر سونے والے کو موت کے بعد قبر میں سفارش کا باعث بنیں گی۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سورتوں کےفضائل کے حوالے سے منقول روایات کے بارے میں یہ بات یاد رہے کہ ان میں سے اکثر موضوع اور من گھڑت ہیں جو نوح بن ابو مریم نامی راوی نے گھڑی تھیں ،لیکن سورۃ ملک اور سجدہ کے حوالے سے صحیح روایات بھی ملتی ہیں ،جن کا بیان درج ذیل ہے۔

1۔سیدنا ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

قرآن مجید میں ایک ایسی سورۃ ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ آدمی کی سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جاۓ گا ، اوروہ سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2891 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 1400 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 3786 ) ۔

امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ نے مجموع فتاوی ( 22 / 277 ) میں اور محدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجۃ ( حدیث نمبر 3053 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اس حديث سے مراد اور مقصود یہ ہے کہ انسان اس سورۃ کو ہررات پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے اوراس میں پائ‏ جانے والی اخبار پرایمان لاۓ ۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہررات تبارک الذی بیدہ الملک پڑھی اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے عذاب قبر سے نجات دے گا ، ہم اس سورۃ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں المانعۃ بچاؤ کرنے والی سورۃ کہتے تھے ، کتاب اللہ میں یہ ایسی سورۃ ہے جو بھی اسے ہررات پڑھے گا اس نے بہت اچھا اور زيادہ کام کیا ۔ سنن النسائ ( 6 / 179 ) الترغیب و الترھیب 1475 میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن کہا ہے ۔

مستقل فتاوی کمیٹی کے علماء کا کہنا ہے کہ :

تو اس بنا پر یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی کی رضا کےلیے جو بھی اس سورۃ پرایمان رکھے اور اسے پڑھے گا اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے عبرت حاصل کرتے ہوۓ اس کے احکام پر عمل کرے گا اس کے لیے یہ سورۃ شفاعت کرے گی ۔ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 4 / 334 - 335 ) ۔

2۔اسی طرح سورۃ السجدہ کے بارے میں سیدنا جابر فرماتے ہیں کہ :

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ(ترمذی:2892)

نبى کریم سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر سوتے نہیں تھے۔

امام البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ