سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(399) بینک ڈرافت اور ہنڈی کی شرعی حیثیت

  • 13139
  • تاریخ اشاعت : 2014-09-14
  • مشاہدات : 1468

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بینک  میں ڈرافٹ  اور بعض  تجارتی حضرات  کے ہاں ہنڈی کا ذریعہ چل رہا ہے ہنڈی میں رقم ایک دن یا کم یا زیادہ مگر پھر بھی جلدی  پہنچانے  کی ضمانت  دی جا تی  ہے  فائدہ  یہ ہے  کہ بینک  کے ریٹ  سے زیادہ  ریٹ دیتے ہیں  شائد  بینک  جتنی رقم اجرت کے بہانے کاٹتا ہے یہ پوری کردیتے  ہیں مثلاً اگر بینک ایک  ریال  میں 80۔6روپے دیتا ہے تو یہ 7یا کچھ اوپر پیسے کے حساب  سے دیتے  ہیں  نیز ہمارے  پیسے  ہمارے  گھر  پہنچانے  کا بندوبست  کرتے ہیں پاکستان  کے زر مبادلہ  کو جو نقصان  ہوتا ہے وہ واضح  ہے مگر بعض نے  پھر بھی  اسے سودی  کاروبار  میں شامل  کیا ہے کہ یہ تاجر اس سے سودی  ذریعہ  بنالیتے ہیں ۔واللہ اعلم  کیسے ؟اگر سودی ذریعہ  نہ بنا یا جا ئے تو کیا حکم ہے ؟ایک ڈاکٹر  کی تحقیق دونوں میں سود ثابت کرتی ہے ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہنڈی کے کا روبار  میں بظاہر  کو ئی قباحت  معلوم  نہیں  ہوتی  کیونکہ  مختلف کر نسیوں  کا کمی بیشی  سے  تبادلہ سود نہیں یہاں جنس کے  اعتبار  سے دونوں مختلف ہیں ۔اور "مختلف الاجناس"کے تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے  پھر اس کمی  زیادتی  کی شرعی طور پر کوئی حد مقرر  نہیں  ہے  بلکہ  معاملہ  جانبین  کی باہمی  رضا مندی  پر موقوف  ہے ۔

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص706

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ