فتاویٰ جات: اہل حدیث
فتویٰ نمبر : 7374
مسلک اہل حدیث کی حقیقت واصلیت
شروع از بتاریخ : 27 October 2013 12:04 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسلک اہل حدیث کی حقیقت واصلیت


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلک اہل حدیث کی حقیقت واصلیت

حققیت یہ ہے کہ عہد رسالت میں سوائے کتاب اللہ کے نہ کوئی کتاب لکھی گئی تھی۔ نہ فقہی احکام ہی جمع کرکے لوگوں کو ان کی اتباع کےلئے کہا گیا۔ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کا یہ معمول تھا کہ وہ قرآنی احکام پر عمل کرتے۔ اور جو کچھ دریافت کرنا ہوتا۔ حضو ر نبی کریمﷺ سے پوچھ لیتے تھے۔ یا خود آپﷺ کوئی حکم فرماتے۔ یا تقریر کرتے یا کوئی کام کرتے اور جولوگ اس وقت خدمت مبارک میں موجود ہوتے وہ اسے یاد کرلیتے۔ اور جو اس وقت موجود نہ ہوتے ان کو زبانی یالکھ کر پہنچادیتے۔ اور خود نبی کریمﷺنے بعض احکام لکھواکر روانہ فرمائے۔ چنانچہ محمد بن عمرو بن حزم کو ایک پوری کتاب روانہ فرمائی۔ اس طرح رسول اللہ ﷺکے زمانے میں تبلیغ احادیث نبویہ اور ان کے مطابق فتویٰ دینے کےلئے ایک جماعت صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین کی قائم ہوگئی تھی۔ جس میں بڑے بڑے مندرجہ زیل صحابہ کرام موجود تھے۔ خلفائے راشدین عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابی بن کعبرضی اللہ تعالیٰ عنہ معاذ بن جبلرضی اللہ تعالیٰ عنہ عمار بن یاسررضی اللہ تعالیٰ عنہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو الدرداءرضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلمان فارسی رضوان للہ عنہم اجمعین جب آپ ﷺنے وفات پائی۔ خلافت راشدہ کا ممتاز زمانہ آیا۔ اور کثرت فتوحات کے سبب اسلام دو ر دور ممالک میں پہنچا۔ تو اس وقت صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین مختلف اطراف میں پھیل گئے کوئی شام چلاگیا۔ کوئی عراق۔ کوئی مصر۔ کوئی بصرہ۔ وہاں بھی ان کا طریق عمل وہی رہا کہ جو کچھ انہوں نے آپﷺ کو کرتے دیکھا تھا۔ یا سنا تھا۔ اسی پر خود عمل کرتے تھے۔ اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کیا کرتے تھے۔ اتفاق سے اگر کوئی مسئلہ جدید پیش آجاتا۔ تو وہ کسی دوسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو وہاں موجود ہوتے دریافت کرلیتے۔ اور اگر کسی معاملے میں کوئی صریح حکم کتاب وسنت میں نہیں ملتا تھا۔ تو قرآن وحدیث کے وضع کردہ اُصولوں پر غور کرکے اس پر اس معاملے کو قیاس کرلیا کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ آیا۔ توانہوں نے بھی یہی روش اختیار کی جو صحابیرضی اللہ تعالیٰ عنہ یا تابعی رحمۃ اللہ علیہ جس ملک یا شہر میں ہوتے۔ تو سب لوگ اس ملک اور اس شہر کے تابعی یا صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسائل دین حاصل کرتے۔ اوراس وقت تک اس کے فتوے سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔ جب تک کسی دوسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یاتابعیرحمۃ اللہ علیہ موجودہوقت سے کوئی بات معلوم نہ کرلیتےتھے۔ چنانچہ اہل مدینہ حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتویٰ پرعامل تھے۔ اہل کوفہ حضرت عبدللہ بن مسعود کے فتاووں پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ یہی حال دوسرے ملکوں اورشہروں کاتھااس طرح اگرچہ عملا بعض مسائل میں لوگ مختلف تھے مگرکوئی کسی پر نکتہ چینی نہیں کرتا تھا نہ کوئی کسی کو بُرا جانتا تھا۔ کیونکہ سب کا مقصد اتباع کتاب وسنت تھا۔

ہندوستان میں عمل بالحدیث

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ایک جم غفیر کو اہل حدیث کہلوانے کی ضرورت کیوں پڑی۔ در اصل اگر تقلیدی مذاہب کا رواج پیدا نہ ہوتا تو اس گروہ کو اپنے مسلک کا اہل حدیث نام رکھنا بے کار ہوتا۔ مقلدین کا گرواپنے ائمہ کے اجتہادوں پر اس حد تک اڑگیا۔

انہوں نے اپنے اصول پر یہ چیز داخل کر لی کہ خواہ حدیث صحیح بھی ہو اگر اما م کہ فتوی کو ہر گز نہ چھو ڑ ا جا ئے اس وجہ سے ایسے مسلما ن کی جو کسی امام اور فیقہ کے قول اور فتوی کی بنیا د پر حدیث کو چھو ڑ نا گوارا نہ کر تے تھے یہ جما عت عرب ہی میں پا ئی جا تی تھی مکہ و مدینہ ملک حجا ز میں اس کی کثرت تھی اور وہ اس لئے کہ حدیثوں کو جا ننے زیا دہ تر صحا بہ اکرا م رضوان للہ عنہم اجمعین تھے اور صحا بہ اکرا مرضوان للہ عنہم اجمعین عموما اسی ملک کے با شندے تھے اور اسی ملک میں زیا دہ تر ر ہے اس لئے اہل حجا ز کو اجتہا د رائے اور قیاس کی ضرورت کم پیش آئی اس کے بر خلاف کو فہ بغداد اور ملک عراق کے با شندوں کو اجتہاد اور رائے قیاس سے زیادہ کا م لینے کی ضرورت پڑی وہ اس لئے کہ وہاں حد یثوں کی تعداد بہت کم تھی اور صحا بہ اکرامرضوان للہ عنہم اجمعین کی نہا یت قلیل تعداد ان ملکوں میں رہتی تھی یہی وجہ ہے کہ قدیم اہل علم میں علماء اہل حجا ز کو اہل حدیث اور اہل روایت کے نا م سے اور اہل عراق کو اہل اجتہاد اہل الرای کے نا م سے پکا را جا نے لگا بس یہ سے اہلحدیث اور اہل الرائے کے راستے الگ الگ ہو گے اہل الرائے یہاں تک بڑھے کہ کثرت سے اماموں کے فتا دوں ہی کو ما ننے لگے اور اکثر حدیثوں کو چھو ڑ دیا اور احا دیث کے ڈھو نڈنے والوں اور مشعل راہ بنا نے والوں کی اس قدر کمی ہو گئی کہ عراق وغیرہ کے شہروں میں عنقا ہو گئے جیسا کہ امام سفیان ثو ری علیہ السلام نے یوسف بن اسبا ط علیہ السلام سے فر ما یا –

واذا بلغك عن احد بالمشرق انه صاحب السنة فابعث اليه بالسلام واذا بلغك عن الاخر بالمغرب انه صاحب السنة فابعث اليه بالسلام فقد قل اهل السنة

یعنی ایک شخص مشرق میں اور دوسرا مغرب میں پا بند سنت ہو اور تمہیں خبر مل جا ئے تو ان کو اپنا ہدیہ اسلام ارسال کر و کیوں کہ اہل سنت کی تعداد کم ہو گئی ہے امام سفیان ثوری علیہ السلام کے اس قول کو امام ابن جوزی علیہ السلام نے اپنی مشہور کتا ب تلبیس ابلیس میں نقل کیا ہے جن کی احتیاط نقک محدثین میں بہت شہرت کی ہے جب اسلام عرب سے نکل کر عجم کی طرف اور عربی الا صل مسلما ن اپنے اپنے معتققدات اور مسلما ت کو لے کر جا نے لگے تو تا ریخ کی کتا بوں اور عرب سیا حوں اور جغرا فیہ نو یسوں کی تحریرت دبیا نا ت سے معلو م ہو تا ہے کہ ہندو ستا ن میں مسلما نوں کی آ مدو رفت کے دو ہی راست تھے (1) خشکی کے راستے عراق اور ایران سے ہو تے ہوئے خرا سا ن کے دروں سے گز ر کر شما لی ہند میں پہنچے تھے 2 عراق عرب و یمن سے چل کر با د با نی کشتیوں کے ذریعے دپل ٹھٹھ تھا نہ علاقہ بمبئی اور دوسرے سواحلی بلا دہا ئے میں پہنچے تھے ہندو ستان میں عام طو ر پر کثرت سے حنفی مذہب کے ما ننے والے آئے ہیں با لخصو ص خشکی کے راستے تھے شمالی ہند میں جو لو گ آئے وہ عمو ما حنفی المذ ہب تھے البتہ سوا حلی راستوں سے آ نے والوں میں شا فعی المذ ہب تھے اور اہلحدیث بھی تھے جس کا ثبو ت تا ر یخوں سے بھی ملتا ہے اور آ ج بھی اس کے شوا ہد اس ملک میں مو جو د ہیں اس لئے سوا حلی شہروں میں شوا فع کی آ با دی بکثرت پا ئی جا تی ہے نیز جزاز میں ان کی کثرت ہے سندھ کو اگر چہ مسلما نوں نے پہلی صدی کے آ خر میں فتح کیا عر ب سیا حوں کے بیا نا ت سے معلو م ہت ہے کہ ان کی بستی یہاں پہلے سے مو جو د تھی محمد بن قا سم کی فتح سے پہلے پا نچ سو عر ب مسلما ن ایک عر ب سردار کی ما تحتی میں مکرا ن سے بھا گ کر راجہ داہر کے یہاں چلے آ ئے تھے یہی وہ را جہ دا ہر ہے جس پر محمد بن قا سم نے فتح پا ئی تھی اس زما نے کی تا ریخوں میں اور عرب سیا حوں کے سفر نا موں میں اس وقت کے حا لا ت تو تفصیل کے سا تھ ملتے ہیں مگر یہ معلو م نہیں ہو تا کہ محمد بن قا سم کے سا تھ جو مسلما ن آ ئے تھے چو نکہ اس وقت تقلیدی مذ ہب پیدا ہی نہ ہو ئے تھے اس لئے تقلیدی مذ اہب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا لہذا یہ یقین ہو تا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر دوسری صدی کے آ خر تک جو مسلما ن دنیا کے کسی حصہ میں گئے یا ہندو ستا ن میں آ ئے وہ سب ہی مسلک اہلحدیث کے پا بند تھے جس کا ثبو ت اس طر ح پر ہے کہ ت اریخ اور تذ کرۃ الر جا ل میں علم حدیث کے راویوں کے حا لات کی چھا ن بین سے معلو م ہو تا ہے کہ سندھ میں اسی ز ما نے میں بیشما ر راویا ن حدیث مو جو د تھے جن میں سے بعض کے نا م یہ ہیں ابو مشر سند ھی ابو عبدا لملک محمد بن ابو معشر سندھی امام اوزی جن کی با بت اما م الحدثین حا فظ حجر تحر یر فر ما تے ہیں –وكان اصله من السباء السند حا فظ محمد خلف بن سا لم سند ھی ابو العبا س فضل بن سکین سمیت سندھی ابو نضر فتح بن عبدا للہ سندھی ابو ال عطا ء سندھی جو بہت مشہو ر قا در الکلام شا عر بھی تھے ربیع بن صبیح سندھی بصری امام رببع بن صبیح اتبا ع تا بعین میں سے ہیں جنہوں نے تا بعین کا زما نہ پا یا ہے اور ان سے علو م حا صل کیے ہیں جو ہندو ستا ن کے۔

 کسی غزوہ میں بھی شر یک ہو ئے تھے اور اسی میں شہید ہو گئے بعض تذکرہ نو یسوں نے گکرات کے شہر ھبڑونچ میں ان کی قبر کا نشا ن بھی بتا یا ہے صاحب طبقا ت ابن سعد اپنی مشہور کتا ب میں تحر یر فر ما تے ہیں

 خرج غاذيا الي الهند في البحر فمات فدفن في جزيرة من الجزائر س 140 هجري في الاول خلافة المهدي اخبرني بذلك شيخ من اهل البصرة كان معه (طبقات ابن سعد قسم دوم ج ٧ص ٣٤-)

علامہ بلا ذری نے فتوح البلدان میں اور علامہ ابن عما د الحنبلی نے اپنی مشہور کتا ب شذرۃ الذ ہب میں بھی اسی کے قر یب قریب لکھا ہے یہ حا لات و واقعات دوسری صدی کے ہیں جو ہم بیا ن کر رہے ہیں ور نہ تیسری چو تھی صدی میں تو اہلحدیثوں کا سندھ میں عا م طو ر پر پھیل جا نا تا ر یخوں میں تفصیل کے سا تھ مذ کو ر ہے چنا نچہ عر ب کے مشہور سیا ح بشا ری مقدی جو -375ہجری میں ہندوستان آ یا تھا اپنی مشہور کتا ب احسن التقاسیم میں سندھ کے مشہور شہر منصورہ کے حا ل میں لکھتا ہے یہاں کے ذمی بہت بت پر ست لو گ ہیں اور مسلما نوں میں اکثر اہل حدیث ہیں یہاں مجھے قا ضی امیر محمد منصوری سے ملنے کا اتفا ق ہو ا جو مذ ہب دئود ظا ہر ی کے پا بند تھے قاضی ابو العبا س کی احمد بن صا لح منصوری سندھی کی شخصیت جلیل القدر تھی اور وہ مذ ہب دئود ظا ہری کے پا بند تھے اسی طرح ملک کے نا مو ر مو ر خ ابو ظفر مذوی اپنی کتا ب تا ریخ میں -363جلد اول میں رقم فر ما تے ہیں حدیث کا چر چا بھی اس تک منصورہ میں زیا دہ رہا ہے چنا نچہ اکثر یہاں قا ضی اہلحدیث ہوتے قا ضی ابو محمد منصوری حدیث کے بہت بڑے عا لم اسی جگہ قا ضی تھے اور اپنے وقت کے امام سمجھے جا تے تھے یہ بہت سی کتا بوں کے مصنف تھے چو نکہ حدیث کا ذوق زیا دہ تھا اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کتابیں زیا دہ تر حدیث ہی میں ہوں گی دوسرے مقام پر اسی طرح تحر یر فر ما تے ہیں منصورہ والوں میں زیا دہ تر لو گ ظا ہر ی دئود ظاہری محدث مذہب میں اور حدیث پر عمل کر تے ہیں قا ضی ابو محمد منصوری کا ایک مدرسہ بھی ہے جس میں درس دیتے ہیں وہ خو د بھی صا حب تصا نیف ہیں متعدد کتا بیں اچھی اچھی ان کی لکھی ہو ئی ہیں۔

روایت کے علا وہ سندھ میں بعض محدثین کا بھی تذ کرہ تا ریخ اسلام میں پایا جا تا ہے بہت سے تذ کرہ نگا روں نے ان کے تفصیلی حا لات قلم بند کئے ہیں چنا نچہ جس دور کا ہم تذ کر ہ کر رہے ہیں اس دور میں شیخ ابراہیم بن محمد بن عبداللہ دیبلی اور مو سی بن ہا رون اور محمد بن وعلی صواع شیخ علی بن مو سی شیخ ابو القا سم شعیب بن محمد معروف ابن ابی القطا ن دیبلی بہت مشہور محدث تھے محد ثین کے اس قسم کے تذ کر ے ابن اثیر نے اسد الغا بہ میں اور حا فظ ابن حجر نے اصا بہ میں اور اسمعا نی نے کتا ب الانساب میں بڑی تفصیل سے کیے ہیں اگر ان کی تفصیلات دیکھنی ہیں تو عر ب ہند کے تعلقات مصنفہ مو لا نا سید سلیمان مذدی اور تا ر یخ سندھ مصنفہ مو لا نا ظفر علی مذدی مطا لعہ کیجیے۔

یہ سب حا لا ت چو تھی صدی تک کے ہیں جو ہم بیا ن کر رہے ہیں اس سے آگے انقلابا ت شروع ہو جا تے ہیں دیا لمہ سلا جقہ اور غز نو یوں کا دور آ جا تا ہے محمو د غز نو ی کے حملے ہندوستا ن پر شروع ہو جا تے ہیں اور بشمار مسلما ن شمالی ہند میں پل پڑے ہیں اس زما نے میں نئے سرے سے کتا ب و سنت کی طرف کچھ رجو ع مسلمانوں میں پیدا ہو تا ہے خرا سا ن کے شہروں میں بھی فقہ کے سا تھ ساتھ حدیث کی تعلیم شروع کی جا تی ہے جس کا کھو ج اس سے لگتا ہے کہ محمو د غز نو ی خو د حد یث کا شا ئق تھا جیسا کہ مشہور مصنف ابن عما د اپنی کتا ب شذرۃ الذ ہب میں تحر یر فر ما تے ہیں۔

 اس کی مجلس علما ء سے معمو ر تھی وہ علم حد یث کا شا ئق تھا علما ء اس کی مو جو د گی میں حدیث کا سما ع کر تے اور وہ بھی روایت لینے والوں میں ہوتا اور حد یث کے متعلق استفسار کر تا رہتا۔

(شذر ۃ الذ ہب جلد 3 جلد 3 ص 22 ونزہتہ الخواطر جلد 1 ص 94)

 غزنو ی عسا کر کے سا تھ بہت سے نا مو ر عا لم اور محدث آ ئے اور ہندو ستا ن اور بلا د خرا سا ن میں علم حدیث کا چر چا ہو ا مگر تھو ڑے عرصہ بعد خا نقا ہی جمگھٹوں اور صو فیا ئے کرا م کے جھمیلوں میں پھنس کر علم حد یث کی تر قی کو پھر بڑا بھا ری د ھکا لگا ایشیا کے بیشتر ملکوں میں تصوف کا رواج اس کثرت سے ہو ا کہ مسلما نوں کے وہ علوم فتون جو بنی عباس اور بنی امیہ کے دوار تر قی میں مدون کیے گئے تھے خا نقا بہت اور تصوف کی جھپٹ میں آ گئے اور اسلا م صرف تصو ف اور در ویشوں کے ملفو ظا ت اور تلقینا ت کا۔

 نا م رہ گیا ایرا نیوں نے خو د عر بوں سے شعر و شا عری کا مذ اق لے لیا تھا اس سے عشق یا تغزل کا دور ایرا ن میں آ چکا تھا اس کو ایرانیوں نے تصوف کے رنگ میں ڈھا ل لیا اور صو فیوں کی بے شما ر کتا بیں عر بی فارسی اور اردو نثر و نظم میں و جو د میں آ گیئں اور جو تصوف درویشی اور فقیری تا بعین اور تبع تا بعین کے زما نہ میں حقیقیی اسلام کو اپنے اند ر لیے ہو ئے تھی ایک نئے اسلو ب میں ڈھا لی گئی اور سچے متقی اور درویش اور صو فی نہ رہے بلکہ ان میں بے شما ر رسومات اور بد عا ت پیدا ہو گئیں۔

 پا نچویں صدی سے لے کر آ ٹھویں صدی کے اواخر تک اسی حا لت میں گزرا یہی زما نہ فن تصو ف کی تصا ئف کا ہے مو لا نا جلال الدین رومی کی مثنوی اور شمس تبریز کی کتا بیں ابن عر بی کی فتو ھا ت مکیہ اور فصوص الحکم اور نظا می چشتی اور سہرورد ی خا ندادنوں کے بزرگوں کے ملفو ظا ت انہیں عہدوں کی یا د گا ر یں ہندو ستا ن کے مسلما ن نو مسلم تھے وہ آ ج کل کے متھر ا اور آ گرہ کے رہنے والے ملکا نوں اور الورد بھر تپو ر کے میوئوں کی طرح مسلما ن تو تھے مگر اسلا م کی حقیقت سے قطعا بے خبر تھے اس لئے قرآ ن و حدیث کے سیکھنے پڑہنے اور سمجھنے کی اہمیت و ضرورت سے تو افغا نستا ن اور ایران بھی کما حقہ آ شنا نہ رہے تھے اور کتا ب و سنت کے حقیقی مفا ہیم اور حقا ئق اس زما نے کے غیر شرعی پیروں اور فقیروں اور درویشوں کے ملفا ظا ت و تلقینا ت کی جھپٹ میں آ کر دھند لکے میں آ گئے تھے چنا نچہ اس زما نہ کے ہند ی مسلما نوں کا تذکرہ ہم کو اس عہد کی مشہور تا ر یخی کتا ب تار یخ فیروز شا ہی مصنفہ ضیا ء الدین بر نی میں ملتا ہے جس کو ہم بطو ر خلا صہ کے اپنے الفا ظ اور درج کر تے ہیں اگر کسی کو یہ کتا ب دستیا ب ہو جا ئے تو وہ اسے دیکھ لے دقیق فا رسی جا ننے والے نا یا ب ہو تے جا رہے ہیں ایک بے نظیر محدث اور عا لم جن کو شمس الین تر ک کہتے تھے مصرے حد یث کی چا ر سو کتا بیں لے کر ملتا ن آ ئے تھے اور ملتا ن سے دہلی جا نے کا قصد رکھتے تھے انہوں نے جب یہ با ت سنی کہ ہندو ستا ن کا با دشا ہ جا مع مسجد دہلی میں جمعہ کی نما ز پڑہنے نہیں آ تا تو وہ بہت رنجیدہ ہو ئے اور شہر دہلی کے حا لا ت سن سن کر ملتا ن ہی سے واپس چلے گئے واپس جا نے سے پہلے انہوں نے ایک رسا لہ یا خط لکھ کر سلطا ن علا ئو الدین خلیجی با دشا ہ دہلی کے پا س روا نہ کیا اس میں لکھا تھا کہ میں مصرے دہلی کا ارادا کر کے چلا تھا کہ دہلی میں قیا م کر کے علم حدیث کی اشاعت کروں گا میں محض خدا اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے لئے آ یا تھا کہ لو گوں کو علم حدیث کی طرف متوجہ کر کے خیا نت کر نے والے پیشہ در مو لو یوں اور بد دیا نت عا لموں کی روا یتوں سے نجا ت دلائوں لیکن چونکہ آ پ خود ہی نما ز نہیں پڑہتے اور نما ز جمعہ بھی ادا نہیں کر تے لہذ ا میں ملتا ن ہی سے وا پس جا رہا ہوں میں نے سنا ہے کہ آپ کے شہر میں احا دیث نبوی پر کو ئی عمل نہیں کر تا میں حیرا ن ہوں کہ جس شہر میں حدیث نبوی کے ہو تے ہو ئے دوسرے لو گوں کی ہدا یتوں پر عمل کر تے ہیں۔

 تبا ہ کیوں نہیں ہو جا تا اور عذا ب الہی اس پر کیوں نا ز ل نہیں ہو جا تا میں نے سنا ہے کہ شہر میں سیا ہ ردو بد بخت مو لو ی فتوے اور نا معقول روایتوں کی کتا بیں کھو لے ہو ئے مسجد میں بیٹھے رہتے ہیں اور روپیہ پیسہ لے کر لو گوں کو قسم قسم کے حیلے اور جھو ٹی تا و یلیں بنا تے رہتے ہیں مسلمانوں کے حق کو با طل کر تے اور خود بھی غا ر ت ہو تے ہیں یہ تا ریخ اسی زما نہ کی لکھی گئی ہے جب سلطا ن فیروز تغلق کا عہد حکو مت تھا جو اس کے عہد کے نا مو ر مو رخ کی تا ریخ ہے اسی زما نے کی ایک کتا ب فتو حا ت فیروز شا ہی کے نا م سے ملتی ہے اور ہندو ستا ن کے بیشتر کتب خا نوں میں مو جو د ہے اس زما نے کے ہندو ستا نی مسلما نوں اور ہندو ستا ن کے عا م اسلامی حا لا ت کا اندازہ کر نے وا لوں کے لئے ہم تھوڑی سی عبا ر ت نقل کر تےہیں ہما را دل اس کا تر جمہ کر نے کو نہیں چا ہتا اہل علم پڑ ھیں اور اس زما نے کے عا لموں پر نو حہ کر یں۔

تو مے بلبا س دہر یہ و ترک و تجرید مردماں را گمرہ می کر دند و مر ید ے سا ختند و کلما ت کفری گفتند طا ئفہ ملحداں دا با حتیاں جمع شدہ بو دند وخلق رابا لحا د وا ابا حت دعوت می کر د ند دور شب بمقا م معین جمع می شدند از مر وماں محر م وغیر محرم وشراب درمیا ن می آ ور ند و می گفتند این عبادت است دزناں دما دراں و خواہر اں بیک دگر دراں شب جمع می آ ور دند د جا مہ ہر کہ بر دست کسے ازایشان می افتا دمی با اوزنا کر دے پیرا ن ایشاں شیعہ بو دند شیعی ہباں کہ ایشاں را روا فض می گو یند بسبب رفض و شیعہ مرد ماں را دعوت می کردند ورسا لہا دکتا بہا درایں مذ ہب پر داختہ و تعلیم و تد ریس پیشہ سا ختہ بو دند دخلفا ء راشدین دام المومینن عا ئشہ صدیقہ و جمیع صو فیا ئے کبا ر رضی اللہ عنہ را سب صریح و شتم قبیح می گفتند دلوا طت می کرد ند قرآن مجید را ملحقا ت عثما نی می خوا نذ ورسم عا د تے کہ در دین اسلام جا ئز منیت در شہر مسلما ناں جبلت شدہ بو د کہ عورات در ایا م متبرکہ جماعت پا لکی سوار دگردوں سوار دڈوا سوار دا ستور سوار فوج فوج و جو ق جوق پیا ہ از شہر بیروں آ مد ند و بیزا ر ہا می ر فتند۔ آ ٹھویں صدی ہجری کے ادائل تک مسلمانوں کے حا لات کو پڑھ دل روتا ہے کہ اس زما نے کے لو گ کتا ب و سنت سے کس قدر دور جا پڑے تھے کو ئی کفر ایسا نہ تھا اور کو ئی شر ک ایسا نہ تھا کو ئی بد عت ایسی نہ تھی کو ئی رسم روا ج ایسا نہ تھا جس کو مسلمان نہ کر نے لگے ہوں مگر اسی زما نے میں اللہ عزوجل نے کچھ تھو ڑا سا سا ما ن ایسا بنا دیا کہ ایک ٹمٹما تا چرا غ دہلی میں روشن ہو گیا جس نے شرک بدعت کے کے محا ذوں کو تو ڑ نا اور رسم و رواج کی اندھیروں میں اجا لا کر نا شروع کر دیا چنا نچہ مولا نا اکبر شاہ صا حب اپنی مشہور کتا ب قول حق میں تحر یر فر ما تے ہیں۔

 آ ٹھو یں صدی ہجری کے ربع اول تک ہندوستا ن میں کتا ب و سنت کی تبلیغ واشاعت کا کو ئی کا م اہتما م سے نظر نہیں آ تا تھا سلطا ن محمد تغلق نے تخت نشین ہو کر کتا ب و سنت کی اشا عت کا خصو صی اہتما م و انتظا م اپنے ہا تھ میں لیا مرا سم پر ست قا ضیوں آبا پر ست مفتیوں اور ہو ا پر ست اماموں کو مو قو ف کر کے ان کی جگہ ما مو ر کر نے کے لئے کتا ب و سنت سے واقف اور کتا ب وسنت پر عمل کر نے والے عا لموں کی تلا ش و جستجو شروع ہو ئی اور جہاں تک قا بل آ دمی مل سکے مذکو ر ہ عہدوں پر ما مور کیے سلطا ن محمد تغلق کو سمجھ دار اور کتا ب و سنت سے واقف لو گوں کی کس قدر تلا ش تھی اور ایسے لو گوں کا ہندو ستا ن میں کس قدر کا ل تھا اس کا انداز ہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس کو جب یہ معلو م ہو ا کہ خوا جہ نصیر الدین ادوھی المعروف بہ چرا غ دہلی کتا ب و سنت کے عا لم اور احا دیث نبوی پر عمل کر نے کے شا ئق ہیں تو سلطا ن نے ان کو مجبو ر کیا کہ وہ حضرت شاہ نظا م الدین اولیا ء کی خا نقا ء اور زاویہ تہا ئی کو چھو ڑ کر سلطا ن کی مصا حبت اختیا ر کر یں اور اپنے علم حدیث سے در با ر شا ہی کو مستفیض ہو نے کا مو قع دیں۔

خوا جہ ممدوح کی طرف سے انکا ر اور سلطا ن کی طرف سے اصرار ہوا یہاں تک کہ اس انکا ر اور اصرار نے ترقی کر کے دو نوں میں کشید گی اور نا خو شی پیدا کر دی اس با خدا روشن خیا ل اور تبلیغ کتا ب و سنت سلطا ن نے جب شر کیہ اور بدعیہ مرا سم کے خلاف کو ششیں کیں تو تما م عا لم نما جا ہل اور مسلم نما بد دین لو گ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اس سے برا یہ کہ سب سے بہتر سلطا ن کو بد نا م کر نے اور اس کے تما م بنے ہو ئے کا موں کو بگا ڑ نے کے لئے مرا سم پر ست صو بہ داروں آ با پر ست فو جی سرداروں نے اور نا لا ئق منشیوں نے متفق ہو کر اور بہت سے خا نقا ہ نشینوں کو بھی اس سا زش میں شر یک کر کے سندھ کے ریگستا ن میں اس کا اور اس کی اولاد کا خا تمہ کر دیا اور اس کے رو شن خیا ل و مد بر وز یر کو دہلی کے قر یب بے دردی سے قتل کر کے اطمنیا ن کا سا نس لیا۔

(اخبا ر اہلحدیث دہلی یکم مئی 1952ء)

--------------------------------------------------

1 عراق عرب کی قدیم بندرگاہ بصرہ ہے یہاں اسلام کے عر ب تبلیغ و تا جر آن کر جمیع بلا کر تے تھے اور یہیں سے بحر ی را ستوں کے ذریعے دور دراز ملکوں اور شہروں اور سواحلی آ با د پہنچتے اور تبلیغ اسلام کیا کر تے تھے مشرقی ایشیاء کے مسلمانوں کا انہیں مبلغوں اور تا جر وں کی مخلصانہ کا ر گزاریوں کا نتیجہ ہے

1 یہاں یہ با ت غور کرنے کی ہے کہ نبی نو ح انسا ن نے جو علو م فتون عقل کی تیزی سے ہزاروں سا ل کی محنتوں اور جا ن کا ہوں سے مد ون اور واضح کئے تھے اور ان پر بے شمار کتا بیں عہد بنی عبا س اور نبوا میہ اور فا طمہ میں مسلما نوں نے لکھی اور لکھوائی تھیں اور انہوں نے اس کی تو سیع و اشا عت کے لئے ملکوں اور شہروں میں بہت سے ادارے کھول ڈا لے اور ان علو م فنون کو ہمارے علماء کر کے دنیا کی تہذ یب و تمد ن کو چا ر چا ند لگا دیئے اگر ان علوم کی تر قی اور اشا عت مسلما نوں میں ہو تی رہتی تو ہم نہیں جا نتے کہ دنیا کے مسلما نوں کا رخ کیا ہو تا اور ان کی منزل کہاں ہو تی مذ ا ہب مخترعہ اور شا عرانہ عیا شی اور مصنو عی تصو ف نے ان علو م و فنو ن کو ایک ز بر د ست دھکا لگا یا کہ اس طرف سے مسلما نوں کی طبا ئع کا رجحا ن ہٹ گیا اور علو م عقیلہ اور صحیح فکر و عمل سے وہ بے گا نہ ہو تے چلے گئے اور آ ج وہ ان علو م سے ایسے بے گا ر نہ بن چکے ہیں۔

کہ گو یا ان میں کبھی آ ئے ہی نہ تھے صرف ا پنے بزرگوں کی چند پرا نی کتا بوں کو لئے پھر تے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ ہما رے بزرگ ایسے تھے ہمارے کا لج تھے ہما ری یو نیور سٹیاں تھیں دور حا ضرہ کا ایک جر منی اور امریکی فلا سفر پو چھ سکتا ہے کہ تم بتا ئو تم کیا ہو تو کطھ جو اب بن پڑے گا اور اب یہ ہما ر ے مسلما ن عا لم اپنے ما ضی کو یا د کر کے اپنے بڑوں پر نو حہ خوا نی کر تے رہتے ہیں کبھی یہ شعر بھی پڑ ھتے ہیں۔ بہا ر اب جو دنیا میں آ ئی ہو ئی ہے۔ یہ سب پو را نہیں کی لگا ئی ہو ئی ہے۔

 2 مثنو ی مو لا نا رو می اس زما نے کے تصو ف کی اچھی کتا ب ہے جس کو آ ج بے فکرے مسلما ن عوام کی مخلفوں میں جھو م جھو م کر پڑ ہنے کا ثوا ب حا صل کر تے رہتے ہیں مثنوی مو لو ی و معنوی ہست قرآ ن در زبا ن پہلو ی مگر صا ف کہلے یہ قر آ ن سے ہجر بعد ہے۔ 12۔ منہ

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 674

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)